(نوٹ) اس مکتوب سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صاحبزادہ سراج الحق صاحب ۱۸۸۴ء میں حضرت کی خدمت میں پہنچ چکے تھے اور اخلاق وعقیدت کی منزلوں کو طے کر رہے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر تو اللہ تعالیٰ کی حمد و تسبیح کا اثر غالب تھا اور وہ ہرامر کو فعل باری ہی نتیجہ یقین کرتے تھے۔ حضور کے مکتوبات کے پڑھنے سے یہ بھی نمایاں ہو تا ہے کہ حضور اپنے خدام اور غلاموں کو کس محبت اور ادب سے خطاب کرتے تھے۔ آپ کے اعلیٰ اخلاص کا ایک نمونہ ہے۔ خدام اور وابستگان وامن آپ کی روحانی اوالاد تھی اور آپ اکرمو اوالا وکم کے تحت ہر شخص سے نہ محبت و اکرام پیش آتے تھے۔ (عرفانی کبیر ) ۷/۳۵ مکرمی مخدومی اخویم! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ نیزیک دستار ہدیہ آں پہنچا حقیقت میں عمامہ نہایت عمدہ خوبصورت ہے جو آپ کی دلی محبت کاجوش اس سے مترتح ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو خوش رکھے۔ (آمین ) اور اب یہ عاجز شاید ہفتہ تک اس جگہ ٹھہرے گا۔ زیادہ نہیں۔ والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہٗاز ہوشیار پور۹؍ مارچ ۱۸۸۶ء