(اشتہار ۱۰؍ فروری ۱۸۸۲ء) ان عظیم الشاں برکات میں سے ایک وہ ہے جو مصلح موعود اور پھر بشیر کے متعلق ہے اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ مکتوبات کی اس جلد کے شائع کرتے وقت حضرت مرز ا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ خدا تعالیٰ کی وحی اور الہام سے مشرف ہو کر مصلح موعود ہونے کا دعویٰ کر دیا ہے اور اس کا اعلان دنیا میں ہو چکا ہے اسی سلسلہ میں ہوشیار پور لاہور اور دہلی میں کامیاب جلسے ہو چکے ہیں۔ خدا کا فضل اور رحم ہے کہ خاکسار۔ عرفانی کبیرتو عرصہ دراز سے اس موعود کے متعلق ایمان رکھتا تھا جیسا کہ اس کی تحریروں سے ظاہر ہے مگر اب کشف عطاء ہو گیا اور منکرین کے لئے کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ تاہم ہدایت اللہ تعالیٰ ہی کے طرف سے آئی ہے آنکھ کے اندھوں کے لئے بنیات اور حقایق کام نہیں آتے۔ (عرفانی کبیر) ۸/۳۶ مخدومی مکرمی اخویم سلمہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃا للہ وبرکاتہ مبلغ (…) پہنچ گئے۔ آپ اپنی محبت برادرانہ سے اس عاجز کی تائید میں بہت کوشش کر رہے ہیں اور خلوص و محبت کے آثار بارش کی طرح آپ کے وجود سے ظہور میں آتے جاتے ہیں۔ اللہ جلشانہ آپ کو خوش رکھے۔ والسلام خاکسار غلام احمد ۴؍ جون ۱۸۸۶ء