(نوٹ) حضرت اقدس کا سفر ہوشیار پور ایک تاریخی سفر ہی نہیں بلکہ اس سفر کے ساتھ بہت سے نشانات دابستہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ایک تحریک حفی کے ماتحت کچھ عرصے کے لئے ضلع گورداسپور کے پہاڑی علاقہ (سو جان پور ) کی طرف جا کر عبادت کرنا چاہتے تھے۔ لیکن پھر خدا تعالیٰ کی صاف صاف وحی نے آپ کو ہوشیار پور جانے کا ایما فرمایا اور اس شہر کا نام بتایا۔ اس سفر میں تحریر کا ایک خاص کام بھی زیر نظر تھا۔ چنانچہ حضور نے مرحوم چوہدری رستم علی خان صاحب کو لکھا تھا کہ حسب ایما ء خدا وند کریم بضیہ کام رسالہ کے لئے اس شرط سے سفر کا ارادہ کیا ہے کہ شب وروز و تنہائی ہی رہے اور کسی کی ملاقات نہ ہو اور خدا وند کریم جلشانہٗ نے اس شہر کا نام بتا دیا ہے کہ جس میں کچھ مدت بطور خلوت رہنا چاہئے اور وہ شہر ہوشیار پور ہے۔ الاخرہ یہ سفر حضرت نے قادیان سے سیدھا ہوشیار پور کو کیا گیا تھا۔ چنانچہ ۱۹ ؍ جنوری ۱۸۸۶ء کو حضور معہ حضرت حافظ حامد علی صاحب و حضرت منشی عبداللہ صاحب و میاں فتح خاں (یہ شخص بعد میں مولوی محمد حسین بٹالوی کے اثر میں آگیا ضلع ہوشیار پور کا رہنے والا تھا) روانہ ہوئے اور بروز جمعہ ہوشیار پور پہنچ کر طویلہ شیخ مہر علی صاحب میں فروکش ہوئے تھے۔ اسی سفر میں ماسٹر مرلیدھر سے مباحثہ ہوا جو کتاب سرمہ چشم آریہ کی صورت میں شائع ہوا۔ اس سفرکے برکات عظیم الشاں ہیں۔ خدا تعالیٰ نے اپنی وحی میں فرمایا تھا اور تیرے سفر کو جو ہوشیار پور اور لودہانہ کاسفر ہے تیرے لئے مبارک کر دیا۔