کے مقابلہ آنے کی جرات نہ ہوئی اور سید نذیر حسین اوستاذا لکل کہلانے کے باوجود مقابلہ سے فرار کر گیا۔
یہ واقعات خود بہت دلچسپ ہیں اور انشاء اللہ سوانح حیات میں آجائیں گے۔
اسی سلسلہ میں سید نذیر حسین صاحب کے ایک واقعہ کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتا اور وہ یہ ہے کہ موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یہ دوسری شادی جو اللہ تعالیٰ کے عظیم الشاں نشانوں کے ماتحت دہلی میں ہوئی تو یہی نذیر حسین حضور کا نکاح پڑھنے کے لئے آئے تھے اور انہوں نے حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا نکاح بڑے فخر کے ساتھ پڑھا تھا۔ اس تقریب پر دستور کے موافق پانچ روپے بھی اور ایک جانماز ان کو دئیے گئے تھے۔
(عرفانی کبیر )
۶/۳۴ مخدومی مکرمی اخویم صاحبزادہ سراج الحق صاحب سلمہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاۃ،
آں مخدوم کا عنایت نامہ جو محبت سے بھر اہوا (تھا پہنچا )جزاکم اللہ خیر الجزاء و احسن الیکم فی الدنیا و العقبی۔ یہ عاجز حضرت عزاسمہ میں شکر گزار ہے کہ ایسے مخلص دوست اسی نے میرے لئے میسر کئے۔ فاالحمد اللہ۔
ہمیشہ حالات خیریت آیات سے مطلع فرماتے رہیں اور اس جگہ بفضلہ تعالیٰ سب خیریت سے ہے۔
خاکسار
غلام احمد عفی عنہ
۸ ؍دسمبر ۱۸۸۴ء