ور فرماتے رہے گے باقی خیریت۔
والسلام
الراقم خاکسار
غلام احمداز قادیان ضلع گورداسپور۲۶؍نومبر ۱۸۹۱ء
۵/۳۳ مکرمی اخویم صاحبزادہ صاحب سلمہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاۃ،
ایک بڑی بھاری بحث مولوی نذیر حسین صاحب سے پیش ہے اگر آپ اس بحث پر تین چار روز تک پہنچ سکیں تو عین خوشی اور تمنا ہے مگر آنے میں توقف نہیں چاہئے۔ آپ کے آنے سے بہت مدد ملے گی۔
والسلام
خاکسار
غلام احمد عفی عنہ۱۱؍ اکتوبر ۱۸۹۲ئمقام دہلی بازار بلیمار ان کوٹھی نواب نوہارد۔
(نوٹ) صاحبزادہ سراج الحق صاحب نے اپنے سفر نامہ میں دہلی آنے اور مباحثہ کے متعلق بعض حالات کا تذکرہ لکھا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے خدام کو شریک ہونے کا ہرموقعہ دیا کرتے تھے۔ صاحبزادہ کو اس موقعہ پر اس خدمت میں شریک ہونے کا موقع ملا۔ دہلی کے علماء نے فیصلہ کیا کہ حضرت اقدس کو اگر کسی کتاب کی ضرورت پڑی تو نہ دی جائے۔ حق پوشی کے اس مظاہرے سے انہوں نے اپنی جگہ سمجھا تھا کہ وہ
حق کا مقابلہ کرسکیں گے
لیکن خدا تعالیٰ نے غیب سے کتابوں کے میسر آنے کے سامان تو پیدا کردئیے مگر ان دشمنان حق کو باوجود اپنے ہر قسم کے سازوسامان