آپ نے جو سورۃ فاتحہ پڑھنے کی اجازت چاہی ہے یہ کام صرف اجازت سے نہیں ہو سکتا بلکہ امر ضروری ہے کہ سورۃ فاتحہ کے مضمون سے مناسبت حاصل ہو۔ جب انسان کو ان باتوں پر ایمان اور اثبات قدم حاصل ہوجائے جو سورۃ فاتحہ کا مضمون ہے تو برکات سورۃ فاتحہ سے مستفیض ہو گا۔ آپ کی فطرت بہت عمدہ ہے اور میں بھی امید کرتا ہوں کہ خدا وند کریم جل شانہ، آپ کی جدوجہد پر ثمرات مرتب کرے گا۔ وقال اللہ تعالی والذین جاھدو فینا لھذ سینھم سلینا۔
والسلام
خاکسار
غلام احمداز قادیان
۷ ؍ مارچ ۱۸۸۵ء
(نوٹ) یہ مکتوب شریف تقریباً پانچ سال پہلے کا ہے۔ پیر صاحب چونکہ ایک سجادہ نشین کے بیٹے تھے اور عملیات اورچلہ کشیوں کو ہی معراج سلوک و معرفت یقین کرتے تھے۔ اس لئے انہوں نے حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام سے اس زمانے میں جب کے ابھی بیعت بھی نہیں لیتے تھے سورت فاتحہ کے برکات اور فیوض کو بطورفتر حاصل کرنے کے لئے اجازت چاہی جیساکہ آج کل کے مروجہ پیروں اور سجدہ نشیوں میں یہ طریق جاری ہے۔ مگرحضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے انہیں حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ جب انسان اس روح کو اپنے اندر پیدا نہ کر لے جوسورت فاتحہ میں رکھی گئی ہے مخص منتر جنتر کے طور پر پڑھنے سے وہ برکات حاصل نہیں ہو سکتے۔ یہ عجیب نکتہ معرفت ہے اوراس سے آپ کی ایمانی اور عملی قوت کا پتہ چلتا ہے کہ معرفت الہیہ کے کس بلند مقام پر آپ پہنچے ہوئے تھے۔