۲/۳۰ دوسر امکتوب از عامذ باللہ الصمد غلام احمد بخدمت اخویم مخدوم مکرم صاحبزادہ سراج الحق صاحب سلمہٰ۔ اسلام علیکم ورحمتہ اللہ برکاتہ۔ کل ایک خط خدمت میں روانہ کر چکا ہوں۔ مگر آپ کے سوال کا جواب رہ گیا تھا سو اب لکھتا ہوں۔ علماء اس سوال کے جواب میں اختلاف میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے من کان منکم مریضاً اوعلیٰ سفرفعدۃ من ایام اخر اگر تم مریض ہو یاکسی سفر قلیل یا کثیر ہو تواسی قدر روزے اور دنوں میں رکھ لو۔ سواللہ تعالیٰ نے سفر کی کوئی حد مقرر نہیں کی اورنہ احادیث نبوی میں حد پائی جاتی ہے۔ بلکہ محاورہ عام میں جس قدر مسافت کانا م سفر رکھتے ہیں وہی سفر ہے ایک منزل جو کم حرکت ہو اس کو سفر نہیں کہا جا سکتا۔ والسلام۔ عاجز غلام احمد عفی عنہ، ۲۱ ؍جون ۱۸۸۵ء (نوٹ) سفرمیں روزہ کے متعلق بڑی عجیب و غریب بحثیں ہیں اور سفر کے تعین اور مقدار میں مختلف آرائے ہیں مگر حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک ایسا آسان اور عام فہم اصل تعلیم فریاد ہے جس سے ایک عام آدمی بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے اور حقیقت میں الدین یُسر کے یہی معنی ہیں خود سفر اور حالت بیماری میں روزہ کو خدا تعالیٰ نے یُسر کے ر نگ میں بیان کیا ہے پھر اس میں …نئے مشکلات پیدا کرتا ہے یہ حضرت کے نکتہ کا ایک بین ثبوت اور امتیاز ہے۔ (عرفانی کبیر)