لیکن اس میں کوئی شبہہ نہیں کہ ان کی زندگی کا آخری دور نہایت عسرت اور امتحان کو دور تھا۔ مگر وہ اس دور میں پورے ثابت قدم رہے اوراس امتحان میں کامیاب ہوئے۔ ان کی زندگی کا آخری کارنامہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حالات زندگی لکھ رہے تھے۔ جو انہیں یاد تھے۔ میں ان کی زندگی میں چاہتا تھا کہ اس مسودہ کو دیکھوں۔ انہوں نے خواہش بھی کی۔ لیکن مجھے اپنے بکھیڑوں سے فرصت نہ ملی۔ وہ اکثر بیمار رہتے تھے۔ مگر نہایت صبر وحوصلہ سے اس بیماری کو برداشت کرتے جب ذرا افاقہ ہوجاتا توباہر نکل آتے۔ آخر عمرمیں لوگوں سے مصافحہ کرنے سے گھبراتے تھے۔ اس لئے کہ لوگ جومحبت سے ہاتھ کودباتے تووہ اس شدت کو برداشت نہ کرسکتے تھے۔ مجھے بعض احباب کے متعلق یہ حسرت رہے گی کہ میں ان کی آخری سامات میں ان کے ساتھ نہ تھا۔ غرض کاغذات میں کچھ مکتوبات مل گئے۔ جن میں صاحبزادہ صاحب کی یاد تازہ رکھنے کو ذیل میں درج کرتا ہوں۔
(عرفانی)
۱/۳۱ از عایذ باللہ الصمد غلام احمد بخدمت اخویم صاحبزادہ سراج الحق صاحب۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
عنایت نامہ آں مخدوم پہنچا موجب خوشی ہوئی۔ خداوند کریم آنمکرم کو خوش و خرم رکھے۔ یہ عاجز کچھ عرصے تک بیمار رہا اور اب بھی اس قدر ضعف ہے کہ کوئی محنت کا کام نہیں ہو سکتا۔ اسی باعث سے ابھی کام حصہ پنجم شروع نہیں ہوا بعد درستی و صحت انشاء اللہ شروع کیا جائے گا۔