حضور کے جواب باصواب کا منتظر عاجز غلام۔ بندہ عبدالمجید نائب مہتمم۔ (حضور میں اپنے آپ کو بڑا خوش قسمت سمجھوں گا اگر حضور کسی چیز کے لئے حکم کریں جو کہ ۲۰ماہ حال کو یعنی جب قادیان حاضر ہوں ہمراہ لیتا آئوں۔ عاجز غلام احمد۔ بندہ عبدالمجید ) ۱۰/۲۶ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا ڈاک میں بھی خط پہنچا تھا مجھے چونکہ دورہ کے طور پر بیماری لاحق ہو جاتی ہے اس وقت جواب لکھنے سے معذور ہو جاتا ہوں آج لکھنا چاہتا تھا کہ آج بھی بیمار رہا میرے نزدیک کچھ مضایقہ نہیں تو کلاً علی اللہ داخل کرایا جائے میں انشاء اللہ دعا کروں گا کہ خدا تعالیٰ کامیاب کرے اور بلائوں سے محفوظ رکھے محمود احمد اس جگہ نہیں ہے خط ا س جگہ رکھ لیا ہے وہ امرتسر جواب ضرور لکھ دیں کہ ہم دعا میں مشغول ہیں۔ تسلی رکھیں۔ والسلام مرزا غلام احمد عفی عنہ ۱۱/۲۷ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم از کپور تھلہ۔ ۱۴ ؍ فروری ۱۹۰۸ء جناب عالی۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضور کی علالت طبع کا سن کر دل کو صدمہ ہوا خدا تعالیٰ جلد صحت کلّی عطا فرمائے۔ حضور جان ہیں اور کل جہاں جسم ہے حضور کی بیماری کی خبر سخت چینی کا موجب ہوتی ہے۔ حضور بواپسی ڈاک اپنی صحت سے اطلاع بخشیں۔ اس معاملہ میں جس کے لئے حضور نے توجہ فرمائی تھی۔ دعا اب درست معلوم ہوتا ہے یعنی صاحب بہادر نے جو استفادہ دیا تھا وہ اب واپس لینے کے قریب ہے۔ حضور کی خدمت میں بطور