ہاتھ نہیں چاہتے ساتھ حضرت نے آج مجھ سے دریافت فرمایا ہے کہ عبدالمجید صاحب کے خط کا جواب کیوں نہیں دیا جاتا۔
میں تعجب کرتا ہوں کہ حضرت کے نام آپ کے خطوط کا جواب فوراً دیا جاتا ہے اور عموماً میں خود لکھتا ہوں بلکہ حضرت کی تحریر بھی آپ کو روانہ کرتا ہوں۔ پھر بھی آپ نے حضور کوا یسے الفاظ لکھے ہیں جن سے حضور کو یہ خیال ہوا ہے کہ گویا آپ کو خطوط کا جواب ہی نہیں دیا جاتا۔ آپ کو چاہئے تھا کہ وضاحت لکھتے کہ میرے خطوط کا جواب حضور کی طرف سے بہ دستخط محمد صادق پہنچتا ہے۔ مگر مجھے اس کی ضرورت نہیں۔
اور اب بھی حضرت کو اطلاع کر دیں اور کھول کر اب رہی یہ بات کہ ہم آپ کے خطوط کا جواب لکھا کریں یا نہ لکھا کریں۔ سو اس کے متعلق یہ گزارش ہے کہ مجھے آپ کا حکم مانتے بھی کبھی تامل ہوتا۔ مگر میں خود علیہ السلام کے حکم سے مجبور ہوں مجھے جب حکم ہوتا ہے کہ میں ایک خط کا جواب لکھوں تو مجھے ضرور لکھنا پڑتا ہے خواہ کسی کو پسند ہو یا نا پسند۔ اس کا خیال نہیں اطاعت حکم سے مطلب ہے آج حضور نے مجھے حکم دیا کہ اس کا جواب لکھو۔ میرے عرض کرنے پر پھر فرمایا کہ اچھا اب میں بھی لکھوں گا۔ مگر آپ بھی لکھو۔ فرمائیے اب میں کیا کروں۔ اللہ تعالیٰ کا فضل آپ کے شامل حال ہو۔
والسلام
خادم محمد صادق عفی اللہ عنہ قادیان
اس واقعہ سے محبت اور اطاعت کے گراں قدر جذبے کام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔