اور آپ ایک ہوشیار آدمی بھیج کر گھوڑی منگوا لیں اور ہم اس جگہ بھی اس کے ہمراہ اپنا ایک آدمی کردیں گے۔
والسلام
مرزا غلام احمد از قادیان
۲۶؍ اگست ۱۹۰۶ء
(نوٹ) اس مکتوب سے ظاہر ہے کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اعلٰی درجے کے شاہ سوار تھے جو ہدایات آپ نے گھوڑی کی خرید کے متعلق دی ہیں ان سے اس علم کاپتہ چلتا ہے کہ گھوڑوں کی خوبی کے متعلق آپ کو تھا۔ نیز اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور نے بچپن ہی سے صاحبزادوں کی تربیت ایک ایسے رنگ میں فرمائی جو ان کی آئندہ زندگی کے ساتھ ایک خاص تعلق رکھتا ہے خصوصیت سے حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ کی تربیت میں آپ کو خاص شغف تھا۔ یہ گھوڑی حضرت امیر المومنین ہی کی سواری کے لئے لی گئی تھی اور حضرت امیر المومنین ایک عمدہ شاہ سوار ہیں۔
۳/۱۹ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ، و نصلی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا خط پہنچا میری یہ حالت ہے کہ میں قریباً تین روز سے بیمار ہوں کھانسی کی بہت شدت ہے دوسرے عوارض بھی ہیں اس وقت میں ایسا کمزور ہو گیا ہوں کہ دعا میں پور امجاہدہ اور کوشش نہیں کرسکتا اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو شخص مذکور کے لئے دعا کروں گا اللہ تعالیٰ رحم فرما دے میں اس قدر کمزور ہو گیا ہوں کہ اس قدر تحریر بھی مشکل سے کی ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کے