اختیار میںہے کہ اگر میری صحت میں خدا نخواستہ کچھ زیادہ خلل ہوا تو حتی المقدر دعا کروں گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔
مرزا غلام احمد
۱۰؍ فروری ۱۹۰۸ء
(نوٹ) اس مکتوب سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام خطوط کے جواب میں کس قدر محتاط اور مستعد تھے اور آپ انسان کی فطرت کو سمجھتے تھے کہ خطوط کے جواب کے لئے وہ کسی قدر مغطرب رہتا ہے۔ دوسرے آپ نے دعا کے متعلق بھی قبول ہونے والی دعا کا راز بتایا کہ وہ ایک خاص مجاہدہ اور کوشش کو چاہتی ہے۔ سوم آپ کی طبیعت پر صداقت کس قدر غالب ہے۔ نمائش اور ریا سے آپ پاک ہیں چونکہ بوجہ علالت شدید و غا ء کے لئے وہ حالات میسر نہیں صاف اعتراف فرمایا کہ اس وقت دعا نہیں کر سکتا۔ اس مکتوب کے ہر لفظ سے آپ کا توکل علٰی للہ نمایاں ہے۔
(عرفانی کبیر )
۴/۲۰بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ و نصلی علٰی رسول الکریم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
ہر ایک خط کے پہنچنے پر دعا کی گئی انشاء اللہ بعد میں کئی دعائیں کی جائیں گی خدا تعالیٰ ہر ایک بلا سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
والسلام
مرزا غلام احمد عفی اللہ ۴؍جون ۱۹۰۷ء
۵/ ۲۱ محبی فی اللہ عبد المجید خاں۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کے واسطے دعا کی جاتی ہے حساب سرکاری میں اللہ تعالیٰ سہولت عطا فرمائے۔ والسلام۔