کے عشاق میں سے تھے او راہل بیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے محبت اور ان کے ایمان کاجزو اعظم تھا اس جگہ مجھے ان کی زندگی کے واقعات کی تفصیل مطلوب نہیں سرسری تعارف زیر نظر ہے۔ بزرگان ملت حضرت خلیفۃ اوّل رضی اللہ عنہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ عنہ اور دوسرے اصحاب کیا آپ کے ساتھ محبت رکھتے تھے جو دراصل خود ان کی اس محبت کا عکس تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آپ کا ذکر ان الفاظ میںفرمایا۔
منشی ظفر احمد صاحب۔ یہ جوان صالح کم گو اور اخلاق سے بہرادقیق الفہم آدمی تھے استقامت کے آثار وانوار اس میں ظاہر ہیں وفاداری کی علامات وآثارات اس میں پیدا ہیں۔ ثابت شدہ صداقتوں کو خوب سمجھتا ہے اور ان سے لذت اٹھاتا ہے اور حسن طن جو اس راہ کامرکب ہے۔ دونوں سیرتیں اس میں پائی جاتی ہیں۔ جزاکلہ اللہ خیر الجز ۔
(ازالہ دہام طبع اوّل صفحہ ۸۰۰) ۱۹۲۰ء بکری کے قریب قصبہ باغپت میں پید اہوئے اور ۲۰؍ اکتوبر ۱۹۴۱ء کو کپور تھلہ میں فوت ہوئے اور وہاں سے ان کاجنازہ قادیان لایا گیا اور مقبرہ بہشتی میں دفن ہوئے (رضی اللہ عنہ)
(خاکسار عرفانی کبیر)