بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ ، و نصلی
۶/۱۵ محبی عزیزی اخویم منشی حبیب الرحمن صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ،
جوتا جو آپ نے بھیجا نہایت عمدہ تھا صرف اس قدر فرق تھا کہ وہ کچھ مردانہ قطع تھی دوسرے جیسا کہ زنانہ جوتیاں ہوا کرتی ہیں نازک …کا حصہ انچان لم ہے اور بقدر ایک جو اس پہلی جوتی کے چھوٹی ہے اور اس لئے …
والسلام
خاکسار
غلام احمد از قادیان
۱۹؍ اکتوبر ۱۸۹۴ء
(نوٹ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام عموما ً لودہانہ کا بنا ہوا نرم نری کا سرخ رنگ کاجوتا پہنا کرتے تھے اور منشی حبیب الرحمن مرحوم کی یہ عادت تھی کہ وہ عموماً لودہانہ سے جوتا بنوا کر پیش کیا کرتے تھے۔ ان کے گائوں میں دیمک کی کثرت تھی اکثر کاغذات اور کتب ان کے تباہ ہوگئے۔ یہ خط بھی ایک دو جگہ سے صاف نہیں پڑھا جاتا۔ البتہ یہ سمجھ میں آتا تھا کہ اس مرتبہ جو جوتا آپ نے پیش کیا اس میں بعض بقایص رہ گئے۔ تاہم حضور نے اس کی اولا اس کی خوبی اور عمدگی کو بیان کیا تاکہ جس اخلاص اور محبت سے انہوں نے بنا کربھیجا تھا اس کو ٹھیس نہ لگے اور اس میں جو واقعی نقص رہ گیا تھا وہ اس وجہ سے اصل غرض پوری نہ ہو سکتی تھی اس کا بھی ذکر فرمایا دیا۔
(عرفانی کبیر )