اس ممانعت کا نام ونشان نہیں۔ بلاشبہ جمعہ جائز ہے۔ خدا تعالیٰ کے دین میں حرج نہیں۔ کتاب دافع الوساوس چھپ رہی ہے۔ والسلام خاکسار غلام احمد ۳۰؍اگست ۹۲ء ۴/۱۲ مشفقی محبی اخویم منشی حبیب الرحمن صاحب سلٰمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ، عنایت نامہ پہنچ کر بد دریافت واقعہ ہائلہ حادثۃ وفات آپ کی ہمشیرہ کے بہت غم و اندوہ ہو ا انا للہ وانا الیہ راجعون۔ خدا تعالیٰ آپ کو صبر بخشے اور آپ مرحومہ کو راضیات جنت میں داخل فرمائے آمین ثم آمین۔ باقی بفضلہ تعالیٰ سب طرح سے خیریت ہے۔ والسلام خاکسار غلام احمد۱۷؍ مئی ۹۲ء ۵/۱۳ محبی شفقی اخویم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ، مدت کے بعد آپ کا عنایت نامہ مجھ کو ملا۔ ایک رسالہ آپ کے نام روانہ ہوگیا ہے۔ دافع الوسادس بعد اس کے شائع ہوگا۔ زیورات کی نسبت جو آپ نے دریافت کیا ہے یہ اختلافی مسئلہ ہے۔ مگراکثر علماء اس طرف گئے ہیں کہ جو زیور متعمل ہو اس کی زکوہ نہیں۔ مگر بہتر ہے کہ دوسرے کو عاریتاً کبھی دے دیا کریں مثلا ً دو تین دن کے لئے کسی دعوت کو اگر عاریتاً پہننے کے لئے دے دیا جائے تو پھر بالاتفاق ساقط ہو جاتی ہے۔ خواب آپ کی نہایت عمدہ ہے۔ والسلام راقم خاکسار غلام احمد از قادیان ۲۵؍ جنوری ۱۸۹۲ء