قصیر العمر ہونا اس کے جوہر کے لئے مضر نہیں بلکہ اس کا پاک آنا اور پاک جانا اور گناہ سے بکلی مقصوم رہنا اس کے شرف پر ایک بدیہی دلیل ہے اور جیسا کہ الہام نے بتلایا تھا کہ خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے اور وہ گناہ سے پاک ہے۔ ایسا ہی وہ مہمان کی طرح چند روز دے کر پاکی اور معصومیت کی حالت میںاٹھایا گیا اور موت کے وقت بطور فارق اور عادت اس کاچہرہ چمکا اور اپنے ہاتھ سے اپنی آنکھیں بند کرلیں اور سو گیا یہی اس کی موت تھی جو معمولی موتوں سے دوُر اور نہایت پاک و صاف تھی۔
اس جگہ یہ بھی تحریر کے لائق ہے کہ اس کی موت سے اللہ جل شانہ نے پہلے اس عاجز کو پوری بصیرت بخش دی تھی کہ یہ لڑکا اپنا کام کرچکا ہے اور اب فوت ہو جائے گا۔ اسی وجہ سے اس کی موت نے اس عاجز کی قوت ایمانی کو بہت ترقی دی اور آگے قدم بڑھایا۔ اس کی موت کی تقریب پر بعض مسلمانوں کی نسبت یہ اس الہام ہوا۔احسب الناس ان یترکوان یقونوا امنا وھم لا یفتنون۔ قالو ا باللہ تفتو ا تذکریوسف حتی تکون حرضاً اوتکون من الھا الکین شاھت الو جوہ فتول عنہم حتی حین ان الصابرین یوفی اجر ھم بغیر حساب ۔اب خدا تعالیٰ نے ان آیات میں صاف بتلا دیا کہ بشیر کی موت لوگوں کی آزمائش کے لئے آزمائش کے لئے ایک ضروری امر تھا جو کچے تھے وہ مصلح موعود کے ملنے سے نو مید ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ تو اسی طرح اس یوسف کی باتیں ہی کرتا رہے گا۔ یہاں تک کہ قریب المرگ ہو جائے گا یا مر جائے گا۔ سو خدا تعالیٰ نے مجھے فرمایا کہ ایسوں سے اپنا منہ پھیرلے جب تک وہ وقت پہنچ جائے اور بشیر کی موت پر جو ثابت قدم