شعلہ منطق نے کہاں تک ان کے دلوں کومنور کرکے سیدھی راہ پر لگادیا ہے اور کس درجہ تک جام یقین پلاکر محبت مولٰی بخش دی ہے۔ شاید بعض لوگ میری تقریر مندرجہ بالا کو پڑھ کر جو میں نے صفائی استعداد اور عالی فطرتی متوقی کی بابت لکھا ہے اس حیرت میں پڑیں گے کہ جو بچہ صغیر سنی میں مر جائے اس کے علو ا ستعداد کے کیا معنے ہیں۔ سو میں ان کی تسکین کے لئے کہتا ہوں کہ کمال استعداد ی اور پاک جوہر ی کے لئے زیادہ عمر پانا کچھ ضروری نہیں اور یہ بات عندا لعقل بد یہی ہے کہ بچوں کی استعداد میں ضرور باہم تغاوت ہوتا ہے گو بعض ان میں سے مریں یا زندہ رہیں۔ وہ اندورنی قوتیں اور طاقتیں جو انسان اس مسافر خانہ میں ساتھ لاتا ہے وہ بچوں میں کبھی برابر نہیں ہوئیں۔ ایک بچہ دیوانہ سا اور غبی معلوم ہوتا ہے اور منہ سے رال ٹپکتی ہے اور ایک ہوشیار دکھائی دیتا ہے بعض بچے جو کسی قدر عمر پاتے ہیں اور مکتب میں پڑھتے ہیں۔ نہایت ذہین اور فہیم ہوتے ہیں مگر عمر وفا نہیں کرتی اور صغیر سنی میں مر جاتے ہیں۔ پس لغاوت استعدادات میں کس کو انکار ہوسکتا ہے اور جس حالت میں صد ہا بچے فہیم ا ور ذہین اور ہوشیار مرتے نظر آتے ہیں تو کون کہہ سکتا ہے کہ کمالات استعداد یہ کے لئے عمر طبعی تک پہنچتا ایک ضروری امر ہے سّید نا ومولانا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ابراہیم اپنے لخت جگر کی نسبت بیان کرنا کہ اگر وہ جیتا رہتا تو صدیق یا نبی ہوتا۔ بعض احادیث سے ثابت ہوتا ہے۔ سو اسی طرح خدائے عزوجل نے مجھ پر کھول دیاہے کہ بشیر جو فوت ہو گیا ہے کمالات استعداد یہ میں اعلٰی درجے کا تھا اور اس کے استعدادی کمالات دوسرے عالم میں نشوونما پائیں گے۔