رہے ان کے لئے بے اندازہ اجر کا وعدہ ہوا۔ یہ خدا تعالیٰ کے کام ہیں اور کہ ۔۔۔کی نظر میں حیرت ناک۔
کوتہ میں لوگ یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ جس حالت میں اشتہار ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء میں پیشگوئی شائع کی گئی تھی کہ بعض لڑکے کم عمری میں فوت ہوں گے تو کیا یہ ضرور نہ تھا کہ یہ پیشگوئی پوری ہوتی۔ فی الحقیقت بشیر کی خورو سالی اور اس کی موت نے ایک پیشگوئی کو پورا کیا جو اس کی موت سے تین سال پہلے کی گئی تھی۔ سو دانا کے لئے زیادہ معرفت کا یہ محل ہے نہ انکار و حیرت کا۔
اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے پسر متوقی کے اپنے الہام میں کئی نام رکھے۔ ان میں سے ایک بشیر اور ایک عنموائیل اور ایک خدا با ماست ورحمت حق اور ایک ید اللہ تجلال وجمال ہے او را س کی تعریف میں ایک الہام ہو ایہ جاء ک النور وھو افضل منک یعنی کمالات استعدادیہ میں وہ تجھ سے افضل ہے کیونکہ اس پسر متوقی کو اس آنے والے فرزند سے تعلقات شدید تھے اور اس کے وجود کے لئے یہ بطور ارہاص تھا۔ اس لئے الہامی عبارات میں جو ۲۰؍۱۸۸۶ء کے اشتہار میں درج تھی۔ ان دونوں کے ذکر کو ایسا مخلوط کیا گیا کہ گویا ایک ہی ذکر ہے۔ ایک الہام میں اس دوسرے فرزند کا نام بھی بشیر رکھا ہے چنانچہ فرمایا کہ دوسرا بشیر تمہیں دیا جائے گا یہ وہی بشیر ہے جس کا دوسر انام محمود ہے جس کی نسبت فرمایا کہ وہ اولو العزم ہوگا اور حسن و احسان میں تیر انظیر ہوگا۔ خلیق مایشاء یہی حال ہے جو میں نے آپ کے لئے لکھی۔ و افوض امری الی للہ واللہ بصیر بالعبادالراقم۔
خاکسار
غلام احمد ازقادیان