عیسائی بھی انکار نہیں کر سکتے۔ پس کیا و ظہور کسی اجتہادی غلطی کے ان پاک نبیوں کے وفادار اور روشن ضمیر پر وا نہیں یہ صلاح دے سکتے تھے کہ آپ اپنے وعظ اور پند کو صرف عقلی طریق تک محدود رکھیں اور دعوے نبوت او ر پیشگوئیوں کے بیان کرنے سے دستکش ہو جائیںکہ یہ حق کے طالبوں کے لئے فائد ہ مند چیز نہیں۔ ان بزرگوں نے ہر گز ایسا نہیں کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ بقابل ان روحانی برکات کے جو خدا تعالیٰ کے پاک نبیوں سے صادر وہوتی ہیں۔ ایک آدھ اجتہادی غلطی کوئی چیز نہیں۔ میں قطعاً و یقینا کہتا ہوں او ر علے وجہ الیصرت کہتا ہوں کہ مجرو عقلی دلایل کا ذخیرہ اس شیریں او راطمینان بخش معرفت تک نہیں پہنچ سکتا۔ جس سے انسان بکلی خدا تعالیٰ کے طرف منجدب ہو جاتا ہے بلکہ اس مرتبہ کے حاصل کرنے کے لئے فقط آیات آسمانی و مکالمات ربانی ذریعہ ہیں۔ اس ذریعہ کو وہی منجون الرحمٰن ڈھونڈتا ہے جو اپنے اندر سچی آگ تلاش کی پاتا ہے اور اپنے تئیں رسمی ایمان پر اکتفاکر کے دھوکہ دنیا میں نہیں چاہتا۔ فقط رسمی ایمان پر خوش ہونا ان لوگوں کا طریق ہے جن کے دل محبت دنیا میں پھنسے ہوئے ہیں اور جو کبھی دن کو یا رات کو اور چلنے یا پلنگ پر لیٹے ہوئے اپنے ایمان کی آزمائش نہیں کرتے کہ کس قدر اس میں قوت ہے اور زبان کی چالاکی اور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(بقیہ حاشیہ ) 10 جولائی 1888ء سو اگر ابتداء میں دو ۔۔۔