یہ کام مجرو عقلی دلایل سے ہرگز نہیں ہوسکے گا۔وہ تم اور اکمل مرتبہ معرفت جو مدار نجات ہے۔ فقط عقلی دلایل سے ہر گز نہیں ہوسکتا بلکہ فقط عقلی طور پر اپنے جسم کو ساکت کرنا ایک ناقص اور ناتمام فتح ہے ہمیشہ حقیقی فائدہ خلق اللہ کے ایمان کو اکابر کی برکات روحانیہ سے ہوتا رہا ہے او ر اگر کبھی ان کی پیشگوئی کسی کے ٹھوکر کھا نے کا موجب ہوئی تھی تو دراصل خود اسی کا قصور تھا جس نے بوجہ قلت معرفت عادۃاللہ ٹھوکر کھائی۔ یہ بات ہر ایک وسیع المعلومات شخص پر ظاہر ہے کہ اپنے مکاشفات کے متعلق اکثر نبیوں سے بھی اجتہادی غلطیاں ہوتی ہیں اور ان کے شاگروں میںسے بھی جیسا کہ حضرت ابوبکر نے بضع کے لفظ کو جو آیت سیغلبون فی بضع سنین میں داخل ہے۔ تین برس میں محدود سمجھ لیا تھا اور غلطی تھی جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قبنہ کیا اور اسرائیلی نبیوں اجتہادی ؎۱ غلطیاں تو خود ظاہر ہیں جن سے
-------
بنی اسراائیل کے چار سو نبی نے ایک بادشاہ کی فتح کی نسبت خبر دی اور وہ غلط نکل یعنے بجائے فتح کے شکست ہوئی۔