ساتھ ہی ایسے معدوم ہوجاتے ہیںکہ گویا وہ کبھی ظہور پذیر نہیں ہوئے تھے۔ محجوب لوگ جیسے خدا تعالیٰ کو شناخت نہیںکرسکتے ایسے ہی اس کے خالص بندوں کی شناخت سے قاصر ہیںاور ایسوںکے اپنے ایمان اور اپنی معرفت کے پورا کرنے کی پرواہ بھی نہیںہوتی۔ وہ کبھی آنکھ اٹھا کرنہیں دیکھتے کہ ہم دنیا میںکیوںآئے اور ہمارا اصلی کمال کیا ہے جس کو ہمیںحاصل کرنا چاہئے وہ صرف رسم اور عادت کے طور پر مذہب کے پابند رہتے ہیں اور صرف رسمی جوش سے قوم کے حامی یا مذہب کے ریفارمر بن بیٹھے ہیں۔ وہ کبھی اس طرح خیال نہیںکرتے کہ سچا یقین حاصل کرنے کے لئے کرنا چاہئے اور کبھی اپنی حالت کو نہیں ٹٹولتے کہ وہ کیسے سچائی کے طریق سے گری ہوئی ہے اور تعجب یہ ہے کہ وہ آپ تو حق کے بھوُکے اور پیاسے نہیں ہوتے۔ باایں ہمہ یہ مرض ایسی طبیعت ثانی کا حکم ان میںپیدا کر لیتی ہے کہ وہ اسی مرض کو صحت سمجھتے ہیں اور ایسا اس کی تائید میںزور دیتے ہیں کہ اگر ممکن ہوتو برگزیدوں کو بھی اپنی اس حالت کے طرف کھنیچ لائیں۔سو ایسوں کے اعتراضات کچھ چیز نہیں۔ ہمارے نزدیک اگر وہ مسلمان بھی کہلائیں بلکہ اگر مولوی اور عالم کے نام سے موسوم کئے جائیں تب بھی ان کاایمان ایک ایسی حقیر چیز ہے جس سے ہر ایک طالب عالی ہمت بالطبع متنضر ہو گا۔ ہم ایسے لوگوں سے جھگڑنانہیں چاہتے اور ان کا اور اپنا تصفیہ فیصلہ کے دن پر چھوڑتے ہیں او ر لکم دینکم ولی دینکہہ کر ان کو رخصت کرتے ہیں۔ یہ بالکل سچ اور سر اسر سچ ہے کہ رجوع اور سچا یقین بجز سچی معرفت کے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے۔ بالکل غیر ممکن ہے۔