پیشگوئی جو لڑکے کی بابت تھی۔ وہ درحقیقت دو پیشگوئیوں پر مشتمل تھی۔ جوغلطی سے ایک سمجھی گئی اور پھر بعد میں بشیر کی موت سے پہلے خود الہام نے اس غلطی کو رفع کردیا گیااگر الہام اس غلطی کو بشیر کی موت سے پہلے رفع نہ کرتا تو ایک غبی کو شہادت پیدا ہونے کاممکن تھے۔ مگر اب کوئی گنجائش شبہہ کی نہیں۔ حضرت مسیح موعود نے اجتہادی طور بعض اپنی پیشگوئیوںکو ایسے طور سے سمجھ لیا تھاکہ اس طور سے وقوع میں نہیں آئیں اور حضرات حواریاں بھی جو عیسائیوں کے نبی کہلاتے ہیں۔ کئی دفعہ پیشگوئیوں کے سمجھنے میںغلطی کرتے رہے حالانکہ ان غلطیوں سے ان کی شان میں کچھ فرق نہیں آتا۔ اجتہادی غلطی جیسے علمائوں کو پیش آتی ہے۔ ایسے ہی علماء باطن کو بھی پیش آجاتی ہے اور پاک دل آدمی ان امور سے ذرہ بھی متغیر نہیں ہوتے۔ خدا تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندوں کوایسی حالت میںکب چھوڑتا ہے اور اپنے انوار کو صرف اسی حد تک کب ختم کردیتا ہے بلکہ بعض وقت کی یہ اجتہادی غلطی خلق اللہ کے لئے موجب نفع عظیم کی ہوئی ہے اور جب فرستادہ الٰہی کی سچائی کی کرنیں چاروں طرف سے کھلنی شروع ہوتی ہیں تب سالک کے لئے یہ اجتہادی غلطی ایک دقیق معرفت کا نکتہ معلو م ہوتا ہے۔ جس شخص کو خداتعالیٰ سے کچھ غرض نہیں اور معرفت الٰہی سے کچھ واسطہ نہیں اور اس کا دین مخص ہنسی اور ٹھٹھا ہے اور اس کا مبلغ علم صرف موٹی باتوں اور سطحی خیالات تک محدود ہے۔ ایسے شخص کی نکتہ چینی اور اعتراضات کیا حقیقت رکھتے ہیں۔ وہ حباب کی طرح جلد کم ہوجاتے ہیں اور نور حقانیت اور بریان صداقت جب پورا پورا اپنا پر تور کہلاتے ہیں۔ تو ایسے ظلماتی اعتراضات کہ ایک غبی اور مردہ دل کے منہ سے نکلتے ہیں۔