یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ۲۰ ؍فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں جو کہ بظاہر ایک لڑکے کی بات پیشگوئی سمجھی گئی تھی۔ درحقیقت وہ ۲ لڑکوں کی بابت پیشگوئی تھی یعنی اشتہار مذکورہ کی پہلی یہ عبادت کہ خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔ اس کانام عنمو ائیل اور بشیر بھی ہے اس کو مقدس روح دی گئی ہے وہ جس سے (یعنی گناہ سے )پاک ہے۔ وہ نور اللہ ہے مبارک ہے۔ جو آسمانوں سے آتا ہے۔ یہ تمام عبادت اس پسر متوقی کے حق میں ہے اور مہمان کا لفظ جو اس کے حق میں استعمال کیا گیا ہے یہ اس کی چند روزہ زندگی کی طر ف اشارہ ہے کیونکہ مہمان وہی ہوتا ہے جو چند روز رہ کر چلا جائے اور دیکھتے دیکھتے رخصت ہوجائے اور بعد کافقرہ مصلح موعود کے طرف اشارہ ہے اور اخیر تک اس کی تعریف ہے۔ چنانچہ آپ کو اور اجمالاً سب کو معلوم ہے کہ بشیر کی موت سے پہلے ۱۰ ؍جولائی ۱۸۸۷ء کے اشتہار میں پیشگوئی شائع ہو چکی ہے کہ ایک اور لڑکا پید اہونے والا ہے جو اولوالعزم ہو گا اور ۸؍ اپریل ۱۸۸۷ء کے اشتہار میں وہ فقرہ الہامی کہ انہوں نے کہا کہ آنے والا یہی ہے۔ یا ہم دوسرے کی راہ تکیں۔ اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے اور بشیر کی موت سے پہلے آپ قادیان میں ملاقات کے لئے تشریف لائے۔ تو زبانی بھی اس آنے والے لڑکے کے بارے میںالہام سنا دیا گیا۔ یعنی یہ ایک اولوالعزم پیدا ہوگا یخلق مایشاء وہ حسن اور احسان میں تیر انظیر ہوگا۔ سو الہام الٰہی نے پہلے سے ظاہر کردیا کہ ایک لڑکا ایک نہیںبلکہ دو ہیں۔ ہاں کسی مدت تک یہی اجتہادی غلطی رہی کہ لڑکا ایک ہی سمجھا گیا۔ ۲۰ ؍ فروری ۱۸۸۶ء