خیالات پید اکئے کہ غالباً یہ وہی مصلح موعود ہوگا۔ مگر پیچھے سے کھل گیا کہ مصلح موعود نہ تھا۔ مگر مصلح موعود کابشیر تھا اور روشن فطرتی اور کمالات استعداد میں یہ بہت بڑھا ہوا تھا اور وہ ہزاروں مومنوں کے لئے جو اس کی موت کے غم میں شریک ہوتے بطور فرط کے ہوگا۔ پس یہ نہیں کہ وہ بے فائدہ آیا بلکہ خدا تعالیٰ نے ظاہر کر دیا کہ اس کی موت عظیم الشان ابتلاء کاایک بھاری حلہ تھا۔ وہ ان کو جو اس حملہ کی برداشت کر گئے۔ عنقریب ایک تازہ زندگی بخشے گی اور اپنی حالت میں وہ ترقی کرجائیں گے۔ یہ بشیر درحقیقت ایک شفیع کی طرح پیدا ہوااور اس کی موت ان سچے مومنوںکاکفارہ ہے جن کو اس کے مرنے پر مخص للہ غم ہوا ۔ یہاں تک کہ بعض نے کہا اگر ہماری ساری اولاد مر جاتی اور بشیر زندہ رہتا تو ہمیںکچھ رنج نہ تھا۔ پس کیا ایسے لوگوں کے گناہوں کاوہ کفارہ نہ ہوگا کیا انیسوں کے لئے وہ پاک اور معصوم شفیع نہیں ٹھہرے گا اور اس کی موت نے ایسے مومنوں کی زندگی بخشی ہے غرض وہ مومنوںاور ثابت قدموں کے لئے جو اس کی موت کے غم میں مخص للہ شریک ہوئے ۔ ایک ربانی مبشر تھا۔ اللہ جل شانہ کے انزال رحمت اور روحانی مومنوں کوبرکت دینے کے لئے ان طریقوں میں سے ایک عمدہ طریقہ ہے۔ گو کوئی شخص اس عاجز پر اعتقاد رکھے یا نہ رکھے اور اس ضعیف کو ہم سمجھے یا نہ سمجھے مگر بشیر کی موت سے اگر مخص للہ اس کو غم پہنچا ہے تو بلاشبہ اور اس کے لئے فرط اور شفیع ہوگا ۔