کے چھاپنے میں توقف در توقف ہوتی گئی۔ الہامات جو اس پسر متوفی کی نسبت اس کی پیدائش کے بعد ہوئے ان سے خود مترشح ہوتا ہے کہ وہ خلق اللہ کے لئے ایک ابتلائے عظیم کا موجب ہو گا۔ جیسا کہ یہ الہام۔ انا ارسلنک شاھد او مبشر اونذیرا ۔ کصیب من السماء فیہ ظلمات ورعد وبرق۔۔ پس اس الہام میں صاف فرما دیا کہ وہ اَبر رحمت ہے مگر اس میں تاریکی ہے اس تاریکی سے وہی آزمائش کی تاریکی مراد ہے۔ جو لوگوںکو اس کی موت سے پیش آئی اور ایسے سخت ابتلاء میں پڑ گئے جو ظلمات کی طرح تھا یہ سچ ہے اور بالکل سچ کہ یہ عاجز اجتہادی غلطی سے اس خیال میں پڑ گیا تھا کہ غالباً یہ لڑکا مصلح موعود ہو گا جس کی صفائی باطنی اور روشنی استعداد اور تطہیر اور پاکیزگی کی اس قدر تعریف کی گئی ہے مگر اجتہادی کوئی امر ایسا نہیںہے کہ نفس الہام پر کوئی دھبہ لگا سکے۔ ایسی غلطیاںاپنے مکاشفات کے سمجھنے میں نبیو ں سے بھی ہوتی رہی ہیں۔ با ایں ہمہ جب لوگ پوچھتے رہے کہ کیا یہ لڑکا مصلح موعود ہے تو ان کوبھی جواب دیاگیا کہ ہنوزیہ امر قیاسی ہے چونکہ خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا تھا کہ لوگوں کو ایک ابتلائے عظیم میں ڈالے اور سچوں اور کچوں میں فرق کر کے دکھلا وے۔ اس وجہ سے یہ عاجز کہ ایک ضعیف بشیر ہے اس ارادہ کا مغلوب ہو گیا اور یوں ہوا کہ اس لڑکے کی پیدائش کے بعد اس کی طہارت باطنی اور صفائی و استعد اد کی تعریفیں الہام میں بیان کی گئیں اور پاک نور اللہ اور ید اللہ اور مقدس اور بشیر اور خدا باماست اس کانا م رکھا گیا۔ سو ان الہامات نے یہ