عنایت نامہ پہنچا۔ آپ کالفظ لفظ قوۃ ایمانی پر شاہد ناطق ہے عادۃ اللہ قدیم سے جاری ہے کہ وہ اپنے بندوں کو بغیر آزمائش کے نہیں چھوڑتا اور ایسے ایمان کوقبول نہیں کرتا جو آزمائش سے پہلے انسان رکھتا ہے اگر بشیر احمد کی وفات میں ایک عظیم الشاں حکمت نہ ہوتی تو خدا تعالیٰ ایسا رحیم وکریم تھا کہ اگر بشیر عظم رمیم بھی ہوتا۔ تب بھی اس کو زندہ کردیتا مگر اللہ جل شانہ نے یہی چاہا تھا اس کے وہ سب کام پورے ہوں جن کااس نے ارادہ کیاہے۔ بشیر احمد کی وفات کاحادثہ ایسا امر نہیں ہے کہ جو ایک صفا باطن اور دانا انسان کی ٹھوکر کھانے کا باعث ہو سکے۔ جب بشیر پیدا ہوا تو اس کی پیدائش کے بعد صدہا خطوط پنجاب اور ہندوستان سے اس مضمون کے پہنچے کہ آیا یہ وہی لڑکا ہے جس کے ہاتھ پر لوگ ہدایت پائیں گے تو سب کو ہی یہی جواب دیا گیا کہ اس بارہ میں صفائی سے اب تک کوئی الہام نہیں ہوا۔ ہاں گمان غالب ہے کہ یہی ہو کیونکہ اس کی ذاتی بزرگی الہامات میں بیان کی گئی ہے۔ایسے جوابات کی یہ بھی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس پسر متوفی کے استعدادی کمالات اس عاجز پر کھول دیئے تھے اور اس بناء پر قیاسی طور پرگمان کیا گیا تھا کہ غالباً یہی مصلح موعود ہے۔ کیونکہ ذاتی استعداد اور مقدس اور مطہر ہونے کی حالت جو اس کی پیدائش کے بعد الہامات میں بیان کی گئی۔ وہ مصلح موعود کے برابربلکہ اس سے کہیں بڑھ کر تھی۔مگر پیدائش کے بعد ایسا الہام نہیں ہوا کہ یہی مصلح موعود اور عمر پانے والا ہے اوراسی تصفیہ کی غرض سے سراج منیر