بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم محبی اخویم سیٹھ اسماعیل آدم صاحب سلمہ اللہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ کے خط آمدہ سے واقعہ درد ناک آپ کی اہلیہ کی وفات سے اطلاع ہوئی انا اللہ وان الیہ راجعون دعا بہت کی گئی تھی مگر تقدیر مبرم کے ساتھ کیا چارہ ہے بجز اس کے کہ صبر اوررضا سے کام لیا جائے مجھے آپ کی زبانی معلوم ہے کہ آپ کی یہ اہلیہ مرحومہ بڑی خیر خواہ او رآپ کی تکالیف کے وقت خود اپنے آپ کو درد او رتکالیف میں ڈالتی تھی جب کہ آپ کو طاعون ہوئی تو آپ کی خدمت کرنے کے وقت اپنی جان کی بھی پرواہ نہ کی درحقیقت ایسی دلی خیر خواہ بیویاں بہت کم ملتی ہیں اور ان کے مرنے سے زندگی تلخ ہو جاتی ہے اور نیز ان کے مرنے سے خانہ داری کا انتظام تمام درہم برہم ہو جاتا ہے مگر خدا تعالیٰ کی قضاء و قدر سے موافقت کرنا اور اس کی رضا پر راضی ہونا سچے ایماندار کا کام ہے خد اتعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ہے کہ وہ مصیبت کے وقت انشراح صدر سے صبر کرتے ہیں یا نہیں۔ مجھے معلوم تھا کہ آپ کی بیماری میں آپ کو بہت تکلیف ہے ا س لئے دعا بار بار کی گئی مگر چونکہ آسمان پر ان کی موت مقرر ہو چکی تھی اور عمر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا اس لئے دعا بے سود تھی بہر حال اب آپ کو صبر کرنا چاہئے۔ خد اتعالیٰ قادر ہے کہ کسی نعم البدل سے اس درد کو دور کرے آپ کی موجودہ تکالیف کی گھبراہٹ تو بے شک آپ کو بہت صدمہ پہنچا رہی ہو گی مگر صبر کریں خدا تعالی آپ کو اس مصیبت کی جزا دے آمین۔ باقی سب طرح سے خیریت ہے والسلام خاکسار مرز اغلام احمد بقلم خود