ہماری حالت نیند اور بیداری کے درمیان تھی تو ہم نے آپ کا دامن پکڑ لیا اورعرض کی۔ یا رسول اللہ اب تو سارا ہندوستان چھوڑ عرب کے علماء نے بھی کفر کے فتوے دے دئیے تو آپ نے بڑے جلال میں تین بار دوہرا کر فرمایا۔ ’’ھو صادق۔ ھو صادق۔ ھو صادق‘‘ یعنی مرزا غلام احمد تو سچے ہیں۔ مرزا غلام احمد تو سچے ہیں۔ مرزا غلام احمد تو سچے ہیں۔ یہ جواب ’’پیر جھنڈے والے‘‘ صاحب نے جناب سیٹھ اسمٰعیل آدم صاحب آف بمبئی کے پاس یہ لکھ کر کہ ’’یہ ہے سچی گواہی جو ہمارے پاس ہے۔ ہم آپ کی قسم شبکدوش ہو گئے ماننا نہ ماننا آپ کاکام ہے۔ ‘‘ (راقم رشید الدین پیر صاحب العلم) بھیج دیا۔ یہ جواب پہنچا تھا کہ سیٹھ اسمٰعیل صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر لی اور آپ کے حلقہ اطاعت میں داخل ہو گئے۔ سلسلہ بیعت میں داخل ہونے کے بعد کل کا اسماعیل بالکل بدل گیا اور حقیقی معنوں میں ابدال ہو گیا قابلیت موجود تھی اخلاص تھا اس سلسلہ میں آکر ترقی کرتا چلا گیا اور وہ پھر بمبئی کے سلسلہ کا آدم قرار پایا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے عاشقانہ رنگ میں اخلاص ہے اور سلسلہ کی خدمت میں انہوں نے بڑی بڑی قربانیاں کی ہیں ان کی تفصیل کتاب تعارف میں آئے گی۔ خلافت ثانیہ کی اوّل ہی بیعت کر لی مگر بعد میں شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم اور دوسردے لاہوری احباب کے اثر میں لاہور سے تعلق رہا مگر قادیان