اس کاجواب حضرت پیر سائیں جھنڈے والے صاحب نے جو لکھا۔ وہ بھی درج ذیل ہے۔ شہادت اوّل:۔ ہمارے سلسلہ کا دستور ہے کہ مابین نماز مغرب و عشاء ہم اپنے مریدوں کے ساتھ حلقہ کر کے ذکر اللہ کیا کرتے ہیں ایک روز حلقہ میں بحالتِ کشف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم نے دیکھا تو ہم نے آپ سے سوال کیا کہ یا حضرت یہ شخص مرزا غلام احمد کون ہے؟ تو آپ نے جواب دیا۔ ’’از ماست‘‘ یعنی مرزا غلام احمد ہماری طرف سے ہے۔ شہادت دوّم:۔ ہمارے خاندان کا وتیرہ ہے کہ …نماز عشاء ہم کسی سے کلام نہیں کرتے اور سو جاتے ہیں یہی سنت رسول ہے۔ ایک دن خواب میں ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ تو ہم نے سوال کیا کہ حضور مولویوں نے اس شخص (حضرت مسیح موعود) پر کفر کے فتوے لگائے ہیں اور اس کو جھٹلاتے ہیں تو آپ نے ارشاد فرمایا۔ ’’در عشق ما دیوانہ شدہ است‘‘ یعنی مرزا غلام احمد تو ہمارے عشق اور محبت میں دیوانہ ہیں۔ شہادت سوم:۔ ہمارا سلسلہ اور خاندان تہجد گزار ہے۔ اس لئے ہم روز رات کو تین بجے کے بعد اٹھتے ہیں اور بعد نماز تہجد کروٹ لیتے رہتے ہیں اور اسی وضو سے صبح کی نماز پڑھتے ہیں اور یہ بھی سنت رسول صلعم ہے ایک دن اسی کروٹ لیٹنے کی حالت میں کچھ غنودگی طاری ہوئی اور آنحضرت صلعم تشریف فرما ہوئے۔ اس وقت