سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے اس وقت ہمارے محترم بھائی سیٹھ اسماعیل آدم بدوشباب میں تھے وہ ایک معزز میمن خاندان کے فرد تھے اسی قبیلہ کے جس کے ایک فرد حضرت سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی رضی اللہ عنہ تھے اسی زمانہ کا اسماعیل آدم اپنی قوم کے نوجوانوں میں ایک ہونہار اور علمی مذاق کا نوجوان تھا مذہب کی اہمیت مقبولیت کے رنگ میں گو سمجھتا تھا مگر مذہب کی عملی روح اس زمانہ کے تاجر نوجوانوں کی طرح نہ تھی۔ ہاں علمی مذاق تھا۔ اخبار بینی اور اخبار نویسی کابھی مذاق تھا یہی مذاق انہیں احمدیت کے لئے رہنمائی کرنے والا ہوا۔ ۹۵- ۱۸۸۶ء کے قریب ان کے اندر حق پرستی اور حق جوئی کے فطرتی چنگاری سلگ رہی اٹھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق اخبار اذکار نے ان کو تحقیق حق کی طرف متوجہ کیا۔ اس کے متعلق مفصل حالات ان کے تذکرہ میں آئیں گے انہوں نے اپنے پیر صاحب العلم (جھنڈے والا پر) سے ایک حلفی بیان چاہا اور فارسی زبان میں ایک خط لکھا جس کا خلاصہ درج ذیل ہے۔ ’’ہم تو دنیا دار ہیں اور روحانی آنکھوں سے اندھے ہیں اور آپ لاکھوں انسانوں کے پیشواء اور رہنما ہیں۔ صاحب بصیرت ہیں لہذا آپ حلفاً جواب دیں کہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مدّعی مہدویت و مسیحت اپنے دعویٰ میں صادق ہیں یا کاذب۔ اگر آپ نے کوئی جواب نہ دیا اور وہ (مرزا صاحب) سچے ہوئے اور ہم ہدایت سے محروم ہو گئے تو آپ خدا تعالیٰ کے نزدیک اس کے ذمہ دار ہیں اور اگر وہ جھوٹے ہیں اور ہم نے نادانی سے ان کا مان لیا تو ہماری گمراہی کو وبال سب آپ کے سر پر ہے‘‘۔