پیارے ہوتے ہیں۔ بھائی اور بہنیں بھی عزیز ہوتی ہیں لیکن میاں بیوی کا علاقہ ایک الگ علاقہ ہے جس کے درمیان اسرار ہوتے ہیں۔ میاں بیوی ایک ہی بدن اور ایک ہی وجود ہو جاتے ہیں ان کو صدہا مرتبہ اتفاق ہوتا ہے کہ وہ ایک ہی جگہ سوتے ہیں وہ ایک دوسرے کا عضو ہو جاتے ہیں۔ بسا اوقات ان میں ایک عشق کی سی محبت پید اہو جاتی ہے اس محبت اور باہم انس پکڑنے کے زمانہ کو یاد کر کے کون دل ہے جو پر آب نہیں ہو سکتا۔ یہی وہ تعلق ہے جو چند ہفتہ باہر رہ کر آخر فی الفور یاد آتا ہے۔ اسی تعلق کا خدا نے بار بار ذکر کیا ہے کہ باہم محبت اور انس پکڑنے کا یہی تعلق ہے۔ بسا اوقات اس تعلق کی برکت سے دنیوی تلخیاں فراموش ہو جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ انبیاء علیہم السلام بھی اس تعلق کے مختلف تھے۔ جب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم بہت ہی غمگین ہوتے تھے تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ران پر ہاتھ مارتے تھے اور فرماتے تھے کہ ارحنا یا عائشہ ہمیں خوش کر کہ ہم اس وقت غمگین ہیں۔ ا س سے ثابت ہے کہ اپنی پیاری بیوی۔ پیار ارفیق اور انیس عزیز ہے جو اولاد کی ہمدردی میں شریک غالب اور غم کو دور کرنے والی اور خانہ داری کے معاملات کو متولی ہوتی ہے۔ جب وہ ایک دفعہ دنیا سے گزر جاتی ہے تو کیسا ہے اور کیسی تنہائی کی تاریکی چاروں طرف نظر آتی اور گھر ڈرائونا معلوم ہوتا ہے اور دل ٹکڑے ٹکڑے ہوتا ہے سو اس الہام میں خدا تعالیٰ نے یہی یاد دلایا کہ اس صدمہ سے دین میں قدم رکھو۔ نماز کے پابند اور سچے مسلمان بنو اگر ایسا کرو گے تو خدا جلد اس کا عوض دے گا اور غم کو بھلا دے گا۔ وہ ہر ایک بات پر قادر ہے یہ الہام تھا اور پیغام تھا اس کے بعد آپ ایک تازہ نمونہ دنیداری کا دکھلائیں۔ خد ا برحق ہے اور ا س کے حکم برحق تقوے سے غمون کو دور کر دیتا ہے۔
والسلام
خاکسار
مر زا غلام احمد نومبر ۱۸۹۸ء