حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے نام
مکتوب نمبر ۲۰۰۔
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔
محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ تعالیٰ اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ عنایت نامہ پہنچا اللہ تعالیٰ آپ کو صبر اور استقامت بخشے اور اس مصبیبت کا اجر عطاء فرمائے۔ دنیا کی بلائیں ہمیشہ نا گہانی ہوتی ہیں۔ یہ نہایت ضروری ہے کہ جہاں تک جلد ممکن ہو آپ دوسری شادی کر لیں۔ میں ڈرتا ہوں کہ آپ کو اس صدمہ سے دل پر کوئی حادثہ نہ پہنچے۔ جہاں تک ممکن ہو کثرت غم سے پرہیز کریں۔ دنیا کی یہی رسم ہے۔ نبیوں اور رسولوں کے ساتھ یہی ہوتی آئی ہے۔
خدا اپنے پیاروں کو امتحان میں ڈالتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جس سے پیار کرتا ہے اسے کسی امتحان میں ڈالتا ہے اور جب وہ اپنے امتحان میں پورا نکلتا ہے تو اس کو دنیا اور آخرت میں اجر دیا جاتا ہے۔
نواب صاحب کی نسبت الہام۔ ایک امر آپ کو اطلاع دینے کے لایق ہے کہ آج جو پیر کا دن ہے اس میں غالباً تین بجے کے قریب آپ کی نسبت مجھے الہام ہوا اور وہ یہ ہے۔ فبای عزیز بعدہ تعلمون۔ یہ اللہ جلشانہ کا کلام ہے۔ وہ آپ کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ اس حادثہ کے بعد اور کون سا بڑا حادثہ ہے جس سے تم عبرت پکڑو گے اور دنیا کی بے ثباتی کا تمہیں علم ہو گا۔
میاں بیوی کا رشتہ سب سے نرالا ہوتا ہے۔ درحقیقت اگرچہ بیٹے بھی