اور اس کی آنکھوں اور ہونٹوں سے لگایا گیا اس کے معاً بعد رُوح جاں بحق تسلیم ہوئی۔ گویا کہ اسی خط کی اُسے انتظار تھی اور پھر رفیق اعلیٰ سے جاملی اناَّ للہ واناَّالیہ رَاجِعُون۔
مرزا یعقوب بیگ دلہوزی ۲۸؍جولائی ۱۹۳۵ء
خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام نمبر۲/۱۹۹
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہٰ الکریم
محبی عزیزی مرزا یعقوب بیگ صاحب۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،۔
آپ کا وہ تار جس کا چند روز سے ہر وقت اندیشہ تھا آخر کل عصر کے وقت پہنچا۔ اناَّ للہ واناَّالیہ رَاجِعُون۔ عزیزی مرزا ایوب بیگ جیسا سعید لڑکا جو سراسر نیک بختی اور محبت و اخلاص سے پر تھا۔ اس کی جدائی سے بھی بہت صدمہ اور دکھ پہنچا۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اور اس کے عزیزوں کو صبر عطاء فرمائے اور اس مصیبت کا اخر بخشے۔ (آمین ثم آمین)
اس مرحوم کے والد ضعیف کمزور کا کیا حال ہو گا اور اس کی بیوہ عاجزہ پر کیا گزرا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ سب کو اس صدمہ کے بعد صبر عطا فرمائے ایک جوان صالح نیک جو اولیاء اللہ کی صفات اپنے اندر رکھتا تھا اور ایک پودہ نشوونما یافتہ جواب امید کے وقت پہنچ گیا تھا یک دفعہ اس کا کاٹا جانا اور دنیا سے نابدید ہو جانا سخت صدمہ ہے۔ اللہ جل شانہ سو ختہ دلوں پر رحم کی بارش کرے۔ اسی خط کے وقت جو ایوب بیگ مرحوم کی طرف میری توجہ تھی کہ وہ کیونکر جلد ہماری آنکھوں سے ناپدید ہو گیا اور تمام تعلقات کو خواب و خیال کر گیا کہ یکدفعہ الہام ہوا۔
’’مبارک وہ آدمی جو اس دروازے کی راہ داخل ہوں ‘‘