قبول کرتا ہے یہی چاہتا ہوں کہ تندرستی اور صحت میں دیکھوں۔ جہاں تک انسانی طاقت ہے۔ اب میں اس سے زیادہ کوشش کروں گا۔ مجھے پاس اور نزدیک سمجھیں نہ دور۔ میرے پاس وہ الفاظ نہیں۔ جن سے میں اس درد کو بیان کروں۔ خدا تعالیٰ کی رحمت سے ہرگز نا اُمید مت ہو۔ خدا بڑے کرم اورفضل کا مالک ہے اس کی قدرت اور فضل اور رحمت سے کیا دور ہے۔ کہ عزیزی ایوب بیگ کو تندرست جلد تر دیکھوں۔ اس علالت کے وقت جو تار مجھ کو ملی میں ایسا سراسمیہ ہوں کہ قلم ہاتھ سے چلی جاتی ہے۔ میرے گھر میں بھی ایوب بیگ کے لئے سخت بے قرار ہیں۔ اس وقت میں ان کو بھی اس تار کی خبر نہیں دے سکتاکیونکہ کل سے وہ بھی تپ میں مبتلاء ہیںاور ایک عارضہ حلق میں ہوگیا ہے۔ مشکل سے اندر کچھ جاتا ہے۔ اس کے جوش سے تپ بھی ہوگیا ہے۔ وہ نیچے پڑے ہوئے ہیں اور میں اوپر کے دالان میں ہوںمیری حالت تحریر کے لائق نہ تھی۔ لیکن تار کے درد انگیز اثر نے مجھے اس وقت اٹھا کر بٹھا دیا آپ کا اس میں حرج کیا ہے کہ اس کی ہرروز مجھ کو اطلاع دیں۔ معلوم نہیں جو میں نے ابھی تک ایک بوتل میں دوا روانہ کی تھی وہ پہنچی یا نہیں۔ ریل کی معرفت روانہ کی گئی تھی۔ معلوم نہیں مالش ہر روز ہوتی ہے یا نہیںآپ ذرہ ذرہ حال سے مجھ کو اطلاع دیں اور خدا بہت قادر ہے تسلی دیتے رہیں۔ چوزہ کا شوربہ یعنی بچے خورد کا ہرروز دیا کریں۔ معلوم ہوتا ہے کہ دستوں کی وجہ یہ ہے کہ کمزوری نہایت درجہ تک پہنچ گئی ہے۔ والسلام ۲۵؍اپریل ۱۹۰۰ء نوٹ:۔ یہ وہی خط ہے جس کا ذکر خاکسار نے اپنے خط مورخہ آخر اپریل ۱۹۰۰ء میں کیا ہے۔ جو کہ مرحوم کے عین نزاع کے وقت پہنچا اور عین اس آخری وقت یعنی حالت نزع میں موصول ہوا۔ یہ خط مرحوم کو اس وقت پڑھ کے سنایا گیا