ہے جس کا میں پہلے ذکر کر آیا ہوں۔ وہ آں عزیز کے دام واپسیں پر ملا اور دوسرا اس مجز صادق کی طرف سے تعزیت نامہ ہے۔ مجھے اپنے منصبی فرائض اتنے ہیں کہ فرصت نہیں رکھتا کہ میں سب احباب کی طرف اس عزیز کی وفات کے متعلق حالات لکھ سکوں۔ اس لئے میں نے مختصر طور پر عریضہ کی آپ صاحبان کی طرف لکھا ہے تاکہ جہاں جہاں کہ آپ ہوں اس واقعہ ناگزیری کی خبر ہو او رآپ سب صاحبان اس مرحوم و مغفور کے لئے اگلے جہاں میں ترقی مدارج و مغفرت کی دعا کریں۔ وہ عزیز اس تمام جماعت کا پیارا تھا اور ہر ایک کی محبت اس کے دل میں تھی اس مرحوم متقی نوجوان کا آپ سب صاحبان کو آخری سلام پہنچے۔ اس عزیز نے عمر تو تھوڑی پائی۔ مگر اس کی صلاحیت اور تقوی کا قصہ لمبا ہے ا ورمیں چاہتا ہوں کہ اس کو ایک کتاب کی صورت میں پیش کروں۔ شاید ہے کہ اس نوجوان کی پاک مثال سے کوئی دل موثر ہو جاوے اور اس نور کے چشمہ کی طرف ہمہ تن رجوع کرے۔ جو اس آخری زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوض کوثر سے نکلا ہے۔ تاکہ اس کا ایک گھونٹ اندر کے خفیہ در خفیہ معاصی کی آگ بجھانے کا کام دے اور ایمان کا پودا اس سے نشوونما پا جائے اور اس کی نجات کا موجب ہو جائے۔ اس کی زندگی اور موت تو نمونہ تھی ہی۔ اس کی وفات کے بعد کے حالات بھی عجیب ہیں جو کہ کئی متقی او رصالح لوگوں نے کثرت سے اس اولیاء اللہ اور انبیاء کی مجلس میں او ررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مصاحبت میں جنت کے نعما کھاتے اور خوش و خرم پھرتے عالم رویا میں دیکھا ہے۔ میں سچ کہتا ہوں اور خدا تعالیٰ کی قسم کھاکرسچ کہتا ہوں۔ کیونکہ مجھے