جن کا کہ وہ کامل درجہ عشق رکھتا تھا۔ اس کی عین نزع کی حالت میں پہنچا۔ وہ شخص خط اس وقت اس عزیز کو خدا تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے بالکل تیا ر بیٹھا تھا سنایا گیا اور وہ ا س پیارے امام کے مبارک ہاتھوں کی تحریر جس کو وہ چومنے اور آنکھو ں سے لگانے کی نہایت آرزو رکھتا تھا۔ اس کے منہ اور آنکھوں سے لگا کر اس کے سینہ پر رکھ دی گئی۔ اس کے بعد معاً وہ پاک روح ہمارے پا س سے پرواز ہو گئی۔ گویا کہ اس کو صرف اس خط کی انتظار تھی۔
یہ ایک شخص تھا جو اولیاء اللہ کے صفات اپنے اندر رکھتا تھا اور اس کی زندگی انبیاء کے طریق پر تھی۔ مروجہ علوم میں اس نے بی اے تک تعلیم پائی تھی۔ مگر دین اور خدا شناسی میں وہ اس پچیس سالہ عمر میں اس مرتبہ کو پہنچ گیا تھا کہ کڑوڑ ہا مخلوقات کو وہ معرفت پیری میں نصیب نہیں ہوئی اور اس جہاں میں ہی اس کا تعلق اس جہان سے نزدیک تر ہو گیا تھا اور اس کا دل اللہ تعالیٰ کی محبت سے ایسا پر تھا کہ وہ سارا ہی اس کا ہو گیا تھا اس لئے اس رب السموات والارض نے اس کو اپنے پاس ہی بلا لیا اور یہ سب فضل اور برکت اور سن خاتمت اس امام مسیح موعود کے انفاس طبیات اور محبت اور دعا کو نتیجہ تھا۔ میں دعا کرتا ہوں کہ ہم میں سے ہر ایک فرد اس مسیح موعود کا ایسا ہی سچا خادم اور جاں نثار ثابت ہو جیسا کہ ہمارا بھائی مغفور و مرحوم ایوب تھا۔ خدا کرے کہ ہم میں سے ہر ایک کا ایسا ہی اچھا خاتمہ ہو جیسا کہ اس عزیز کا ہوا۔( آمین)
اس عزیز نوجوان کی صلاحیت اور تقوی کی وجہ سے حضرت اقدس کو بھی اس غایت درجہ کی محبت اور پیار تھا جو کہ حضرت مسیح موعود کے اپنے ہاتھوں کے لکھے ہوئے دو گرامی ناموں سے ظاہر ہو گا جو ذیل میں درج ہیں۔ اوّل وہ خط