اور ایسی سخت بیماری کے اس ڈیڑھ سال کے عرصہ میں اس کی نیند کا بہت سا حصہ جاگنے میں گزر رہا تھا اور کئی کئی راتیں اس نے اپنی آنکھوں میں گزاری تھیں اس نے کبھی نا شکر ی نہیں کی اور نہ کبھی کوئی لفظ مایوسی کا منہ سے نکالا میں بار ہا اس کو ساری ساری رات کھانستے سنا اور بے آرامی میں دیکھتا تھا مگر جب کبھی میں پوچھتا کہ بھائی کیا حال ہے تو جواب دیتا کہ الحمدللہ آمین بہت اچھا ہوں۔ اس بیماری کی حالت میں بھی اس نے کوئی نماز قضا نہ کی۔ کامل الایمان میں طبیب ہوں۔ میں نے ہزار ہا بیمار دیکھے ہیں بیماری سے اکثر انسان ہراساں ہو جاتا ہے اور متعلقین و تیمار داروں کو بیمار کی تسلی و تشفی دینی پڑتی ہے مگر میں نے اسے ایسا تسلی یا فتہ بیمار پایا کہ ہمیشہ اپنے لواحقین و متعلقین کو تسلی دیتا اور اس کی نازک حالت کو دیکھ کر اگر کوئی رشتہ دار اپنی آنکھوں سے آنسو بہاتا تو وہ بڑے مضبوط دل سے اور اثق یقین سے اسے تسلی دیتا اور کہتا کہ خدا کے فضل سے مایوس نہ ہو میں تو اس کی رحمت سے نومید نہیں ہوں۔ تم کیوں پریشان ہوتے ہو۔ حضرت مسیح موعود سے عشق و محبت۔ وہ اعلیٰ درجہ کے اخلاص اور ایمان کا نمونہ تھا۔ حضرت مسیح موعود کو جس سے اسے یہ دولت ملی تھی آخر وقت تک ہمیشہ یاد کرتا رہا اور اس کی اخیر ایام میں بڑی بھاری یہی آرزو تھی کہ حضرت مسیح موعود کی آخری قدمیوسی سے مشرف ہو اور مرنے کے وقت کلمہ شہادت کل لوازمات ایمان کا اپنی زبان سے اقرار کر نے کے بعد اس نے کہا کہ میر احضرت مسیح موعود امام آخر الزماں پر ایمان ہے۔ بس یہی اس کے آخری کلمات تھے۔ اس کے بعد زبان بند ہوگئی اور حضرت مسیح موعود کا خط