علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعا سے خد اتعالیٰ کے خوف و حشیت نے دل میں جگہ لی۔ ہمارا جسمانی باپ تو ایک تھا ہی۔ روحانی طور پر بھی ہم ایک باپ کے فرزند ہو گئے اور مامور کے اس یگانگت کے تعلق سے قلوب کو ایک دوسرے سے کچھ ایسا لگائو تھا کہ میں سمجھتا تھا کہ ہم دونوں بھائیوں ایک دوسرے کے لئے ایک جان او ردو قالب تھے۔
مرحوم کی وفات
جب کہ میرے اور اس عزیز کے ایسے تعلقات تھے تو ایسے آرام قلب اور راحت جان شفیق کے گزر جانے سے ممکن تھا کہ عام دنیا داروں کی طرح میں بھی اندوہ کرب میں مبتلا ہو کر فراق میں ہلاک ہو جاتا مگر تسلی دینے والی ایک ہی بات تھی کہ اس عزیز کا خاتمہ بجز ہوا۔ جو کہ اس امام زماں کے ایک خواب سے قریب چھ ماہ پیشتر معلوم ہو چکا تھا۔
اسم بامسمیٰ ایوب۔ یہ سعید نوجوان اپنے رستد اور نیک بختی اور طہارت میں اسلام کے اس برگزیدہ سلسلہ می ایک نمونہ تھا اور جو صبر اور استقلال اس نے اپنی ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصہ کی بیماری میں دکھایا۔ اس کی اس زمانہ میں بہت کم نظیر ملتی ہے۔ یعنی اس تمام عرصہ میں ایک نحظہ بھر کے لئے بھی اس کے ایمان اور استقلال کو جنبش نہیں آئی اور وہ اخیر وقت تک اس بیماری میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا مندی پر شاکر تھا جیسے کہ کوئی دنیا دار کسی دنیاوی نعمت پانے پر خوشی اور انبساط سے شکر کا لفظ منہ پر لاتا ہے۔ تمام بیماری میں اس اسم بامسمیٰ ایوب نے اف تک نہ کی اور آخری سانس تک بیماری کے دکھ سے اس کی آنکھ میں آنسو نہ آیا۔