اور اس الٰہی پیوندسے اور باغبان کی کوشش سے دونوں پودے بڑھے پھولے اور سرسبز ہوئے ان کارنگ و بو نہایت خوشگوار او ردل و دماغ کو راحت بخشنے والا ہوا۔ درد مند باغبان ان کو جب کبھی دیکھتا نہایت ہی خوش ہوتا۔ یہاں تک کہ قضا ء الٰہی سے ایک دن آندھی چلی اور ان دونوں درختوں میں چھوٹا پودا اکھاڑا گیا اور اس آندھی کے اندھیرے میں کوئی اس کو اٹھا کر لے گیا۔ جب باغبان نے ادھر نظر کی تو اس کو نہ پایا نہایت مترد ہوا اور قریب تھا کہ درد سے آہ نکالے کہ خد اوند ذوالجلال نے آواز دی کہ یہ پودا سب پودوں سے مجھے پسند آیا۔ میں نے اس کو سفلی باغ سے اٹھا کر علوی باغ میں لگا لیا ہے۔ یہ قبولیت کی خبر سن کر باغبان کا دل نہایت خوش ہوا اور اس ذرہ نوازی کا شکر بجا لایا۔ وہ تو نہایت خوش قسمت تھا کہ جس کی جڑ بہشت میں جا لگی۔ جس کو کبھی بھی انقطاع نہ ہو گا اور ابد الآباد تک بڑھے گا اور پھولے گا۔ مگر ابھی دوسرے پودے اور دیگر درختوں کی ہستی معرض خطر میں ہے کہ ان کا کیا انجام ہو گا کہ وہ کھڑے کھڑے ہی سوکھ جاتے ہیں یا ان کو بھی اعلیٰ طبقات میں ہی جگہ ملتی ہے)۔ اس مبارک پیوند کا نتیجہ یہ ہو اکہ صدق اور راستی سے محبت ہو گئی اور ہر ایک قسم کے اور تاریکی سے نصرت اور دل جو ابھی کسی قسم کے اثرات سے متاثر نہ ہوئے تھے۔ اس نیک صحبت سے فیض یاب ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو افضل البشر اور خیرالرسل ہے اور ہر ایک خیر وخوبی کی جڑ ہے۔ فایت درجہ کا الش ہو گیا اور خدا اور کتاب اللہ سے خاص لگائو اور محبت ہو گئی اور حضرت مسیح موعود