نہایت افسوس کا دن ہے کہ میں اپنے اس عزیز اور نہایت ہی پیارے بھائی کی وفات کا تذکرہ آپ کے سامنے کرتا ہوں۔ جو کہ اپنی جوانی اور عین شباب کے ایام میں جب کہ نو نہال ابھی برگ و برلانے کے قابل ہوا تھا۔ یک لخت کاٹا گیا اور ہم سے اس دنیا میں ہمیشہ کے لئے دور ہوگیا اور پسمندگان کے لئے داغ مفارفت چھوڑ گیا اور اپنی صرف پچیس سالہ عمر میں سب سے پہلے دوسرے جہاں میں لایا گیابھائی بھائی تو دنیا میں بہت ہوتے ہیں اور ایک بھائی کی موت دوسرے بھائی کے لئے ایک بھاری صدمہ ہوتی ہے مگر اس بھائی مرحوم میں اور مجھ میں جو تعلق محبت اور یگانگت کا تھا۔ میں دنیا کے برادرانہ رشتوں میں اس کی نظر نہیں دیکھتا۔ یہ کہنا کچھ مبالغہ نہ ہو گا کہ ہم میں سے ہر ایک دوسرے کا عاشق و شیدا تھا اور اس قدر دلی لگائو کی صرف ایک ہی وجہ تھی یعنی آج سے آٹھ نو سال پیشتر جب کہ مجھے ابھی داڑھی کا آغازشروع ہوا تھا اور مرحوم ایوب بیگ مجھ سے بھی … سال کا تھا۔ خدا تعالیٰ کے خاص فضل اور مہربانی سے اور ہمارے والدین کے خوش طالع سے آخری وقت کے امام کے قدموں تک ہماری پہنچ ہوئی اس پیر بزرگ نے فایت کرم اور کمال مہربانی سے ہم دونوں کو اپنے بچوں کی طرح کنار عاطفت میں لیا اور ہم کو بھی نہایت تکلف کے ساتھ اس نور سے بہردر کیاجو اس کے اپنے سینہ میں روشن تھا اور ہم کو بھی اپنے زمرہ خدام میں شمولیت کا شرف بخشا( ان دونوں پودوں پر خدا تعالیٰ کی رحمت کی بارش ہوتی رہی اور اس مرسل باغبان کے باغ میں پرورش پاتے رہے۔ جس کے باغ کو کسی بیرونی آبپاشی کی ضرورت نہیں بلکہ اس کے اندر ہی اندر ایک درخت کی جڑ کے نیچے نہر چلتی ہے اور اس کو سیراب کرتی ہے