سیرت ایوب کا مختصر خاکہ اس وقت جو میں عزیز مرحوم ایوب بیگ کی سیرت لکھ رہا ہوں میرا وہ خط جو کہ عین عزیز مرحوم کی وفات کے بعد میں نے آخر اپریل ۱۹۰۰ء میں الحکم میں چھپوایا تھا۔ میرے سامنے ہے۔ اس خط میں محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس ولی اللہ کے حالات کو گویا کہ ایک کوزہ میں بند کیا گیا ہے اس کے پڑھنے سے جو میرے دل کی حالت ہوئی ہے اور جو رقت اس وقت مجھ پر طاری ہے میں بیان نہیں کر سکتا۔ خط کو پڑھتے پڑھتے میں کئی دفعہ میں سجدہ میں گرا ا ورمرحوم اور اُس کے والدین بلکہ کل مسلمانوں کے لئے بہت دعا کی اور اپنے خاتمہ بالخیر کے لئے بھی دعا کی۔ بیشتر اس کے کہ احباب تک مکمل سیرت پہنچے۔ یہ خط بغرض اشاعت ارسال ہے ۔ ممکن ہے کہ اہل دل کو اس سے فائدہ ہواور حضرت مسیح موعود کی صداقت اور آپ کی برکات صحبت اس کے لئے سرمہ چشم بن سکیں آئیں گوش کن گر اہل دل بشنو گر ماملی شاید کہ نتو اں یافنن دیگر چنیں ایام را خاکسار مرزا یعقوب بیگ دارالسلام دلہوزی ۲۴؍ جولائی ۱۹۳۵ء مرحوم کی وفات پر خاکسار کا خط در حقیقت بس است یار یکے ہر کہ او عاشق یکے ماشد دل یکے جاں یکے نگار یکے ترک و قیاپشیش اندکے باشد برادران! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،۔ آج میرے لئے