سامنے پیش کیاگیا اس پر لکھا ہے کہ ایک ارادت مند لدھیانہ میںہے۔ پھر اس کے مکان کا مجھے پتہ بتایا گیا جو مجھے یاد نہیں اور پھر اس کی ارادت اور قوت ایمانی کی یہ تعریف اسی کاغذ میںلکھی ہوئی دکھائی۔اصلھا ثابت وفرعھا فی السماء مجھے معلوم نہیں۔
وہ کون شخص ہے۔ مگر مجھے شک پڑتا ہے کہ شاید خداوند کریم آپ ہی میںوہ حالت پیدا کرے یاکسی اورمیں۔واللّٰہ اعلم بالصواب۔ اپنی خیروعافیت سے اطلاع بخشیں۔
والسلام
الراقم عاجز
غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور مورخہ ۱۸؍جنوری ۱۸۸۳ء
نوٹ: اس نوٹ میںحضرت حجتہ اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو لودہانہ کے ایک شخص کے اخلاص و ارادت کے متعلق اطلاع دی گئی ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا پتہ نشان بتا دیاتھا مگر اپنی مشیت خاصہ کے تحت اسے بھلا دیا۔ ایک وقت میںآپ اس کامصداق میر عباس علی صاحب کوبھی سمجھتے رہے اس وجہ سے وہ خدمت دین میں بظاہر کامل اخلاص وارادت کا اظہار کر رہا تھا لیکن اس کے انجا م نے ثابت کردیا کہ وہ اس کامصدق نہ تھا اورحضرت اقدس کے مکتوب سے پتہ چلتاہے کہ آپ نے نواب علی محمد خان آف جہجر کوبھی اس مصداق سمجھا اور واقعات نے اس کی تصدیق کی کہ وہ آخر وقت تک اخلاص و ارادت کا ایک پیکر بنا رہا ۔
حضرت اقدس نے جنوری ۱۸۸۲ء میںہی ایک مکتوب میر عباس علی صاحب کے نام لکھا جو مکتوبات احمدیہ کی جلد اوّل میںمکتوب نمبر ۳ کے