فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی ایمان پر اس دنیا سے رخصت ہو تو اس کو بول وبراز میں پھنیک دے تواس کا کچھ نہیں بگڑتا اوراگر کوئی ایمان،بے ایمان مرے توکیسے ہی اُس کو عطر وگلاب میں رکھے تواس کو کچھ فائدہ نہیں پہنچتا۔ پھر حدیث شریف پڑھتے۔اَلْقَبَرْرُوْضَۃً مِنْ رِیَاضٍ الجنّۃِ اوحَضَرۃٌ مِنْ حُضَر النیرّانِ ۔
الغرض حضرت اقدس نے نواب صاحب کے جنازہ کی نماز اپنے مکان پرپڑھی اور دعا ومغفرت و رحمت بہت کی۔ جنازہ کی نماز جو حضرت اقدس علیہ السلام پڑھاتے تھے۔سبحان اللہ کیسی عمدہ اور باقاعدہ موافق سنت پڑھاتے تھے۔
مکتوب نمبر۱؍۵
( اوپر کا نمبر سلسلہ کاہے اور نیچے کا مکتوب الیہ کے نام مکتوب کا ۔عرفانی کبیر)
مخدومی مکرمی عنایت فرمائے این عاجز نواب صاحب علی محمد خاں صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بعد ہذا س عاجزنے ماہ صفر ۱۳۰۰ء میںآپ کے حق میںبہت دعائیں کیں اور میںامید نہیں رکھتا کہ کوئی گدا حضرت کریم میںاس قد ر دعائیں کرکے بھی محروم رہے۔سو اگرچہ تعین نہیں ہو گی۔ مگر امید واثق ہے کہ خدا وند کریم آپ کے حال پر جس طرح چاہے گا کسی وقت رحم کرے گا۔ وھو ارحم الرحمین ۔
میں نے قریب صبح کے کشف کے عالم میں دیکھا کہ ایک کاغذ میرے