عنوان سے طبع ہوا ہے اس میںفرمایا: ’’ خصوص ایک عجیب کشف سے جومجھ کو ۳۰؍ دسمبر ۱۸۸۲ء بروز شنبہ کو یک دفعہ ہوا۔ آپ کے شہر کی طرف نظر لگی ہوئی تھی اور ایک شخص نامعلوم الاسم کی ارادت صادقہ خدا نے میرے پر ظاہر کی جو باشندہ لودہانہ ہے اس عالم کشف میںاس کاتمام پتہ و نشان سکونت بتلادیا جو اب مجھ کو یاد نہیںرہا صرف اتنا یاد رہا کہ سکونت خاص لودہانہ اور اس کے بعد اس کی صفت میںیہ لکھا ہو اپیش کیا گیا۔ سچا ارادت مند اصلہا ثابت و فرعہافی السماء یعنی اس کی ارادت اتنی قوی اور کامل ہے کہ جس میںکچھ نہ تزلزل ہے نہ نقصان بعض لوگ میرعباس علی صاحب کے ارتداد پر اب بھی کبھی اعتراض کردیتے ہیںکہ اس کے متعلق یہ الہام ہوا تھا، یہ غلط ہے لودہانہ کے شخص کے متعلق ہو اتھا اور اس کا نام و پتہ اللہ تعالیٰ نے بتلا کرپھر حافظ سے اسے محو کردیا اور ۱۸ ؍جنوری ۱۸۸۳ء کوجو مکتوب آپ نے نواب علی محمد خان صاحب کے نام لکھا اس میںآپ نے اپنا خیال نواب صاحب میںہی اس حالت کے پید اہوجانے کاظاہر فرمایا اور واقعات نے بتایاکہ اس کے مصداق نواب علی محمد خان رضی اللہ عنہ ہی تھے ۔ اس مکتوب سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ نواب صاحب کے تعلقات حضرت اقدس سے ۱۸۸۳ء سے قائم ہوچکے تھے اوریہ زمانہ ثالیف براہین احمدیہ ہے ۔ (عرفانی کبیر)