ہیں اور خواہ مخواہ بازیگروں کی طرح کرشمہ نمائی ان کی عادت نہیں اگر چہ اولیاء اللہ پر کرامت مثل بارش کے برستی ہے لیکن وہ شخص جو کہ پورا دوست یا پورا دشمن نہ ہو ان انوار کے مشاہدہ سے بے نصیب رہتا ہے اس عاجز نے سولہ ہزار اشتہار کرامت نمائی کے لئے شائع کیا تھا اور شرط کی تھی کہ اگر کوئی مخالف منکر کرامت ہو تو ایک برس تک ہمارے دروازہ پر آکر بیٹھے اس کا ہر جہ دیا جائے گا اس اشتہار سے اللہ جل شانہ کی غرض یہی تھی کہ اس پابندی سے وہی شخص آکر ایک سال تک بیٹھے گا جو تمہارا دشمن ہو گا۔ (۶) اس میں شک نہیں ہے اور خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ عاجز نبیبوں کی طرح اصلاح خلق اللہ کے لئے مامور ہوکر آیا ہے اور دل میں بہت خوش ہے کہ وہ کرامات الٰہی جو یہ عاجز دیکھ رہا ہے لوگ بھی دیکھیں لیکن خداتعالیٰ اپنے قانون قدیم سے تجاوز نہیں کرتا دوست کامل بننا چاہئے یا دشمن کامل تا آسمانی نشان ظاہر ہوں ہاں ایک طریق ہے او راس کو آپ ہی بجا لا سکتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ آپ کا اب تک یہ عقیدہ ہے کہ بارہ اماموں کو جس قدر فضیلت ہے وہ اصحاب کبار کو حاصل نہیں غایت درجہ اصحاب کبار بادشاہوں کی طرح ہیں اور اس کا عاجز یہ عقیدہ ہے کہ اصحاب کبار کے مقابل میں بارہ امام کچھ بھی چیز نہیں بلکہ اصحاب کبار کی محبت ان کا فخر اور ان کے ترقی ایمان کا موجب ہے قرآن شریف میں بجز ابوبکر صدیق ؓ کے کسی اہل بیت کا ذکر نہیں اور یہ بھی میرا عقیدہ ہے کہ صحابہ کے بعد جس قدر اہل بیت میں امام ہوئے ہیں وہ اپنے کمالات میں بے مثل نہیں بلکہ ایسے لوگ ہمیشہ ہوتے ہیں یہ میرے لئے شکر کا مقام ہے اور اسباب کا کہنا اپنے