آیتہ کریمہ ہمارے لئے کافی ہے ان اکرمکم عنداللہ اتفکرممجھے اللہ جل شانہ نے کھول دیا ہے کہ اس زمانہ کا اتقا صدیق اکبر ہے بعض لوگوں کو یہ بھی دھوکہ لگا ہو ا ہے کہ وہ مناقب کسی بزرگ کے پیش کر دیا کرتے ہیں مثلاً کہتے ہیں کہ حضرت علی ؓ کے حق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا اور امام حسین کے حق میں یہ فرمایا ہے مگر یہ خیال کہ کیونکہ اعلیٰ درجہ کی ارادت و محبت کی نسبت پید اکی جائے اس کاجواب یہ ہے کہ درحقیقت طبعی اور حقیقی طور پر اعلیٰ درجہ کی ارادت اور فرمانبرداری بغیر پوری آزمائش کے نہیںہو سکتی مگر طالب حق اللہ جل شانہ کی توفیق سے کسی قدر قرائن سے بہ تکلف ارادت مندوں کا پراہن پہن لیتا ہے پھر عنایت الٰہی سے بمشاہدہ برکات حق وہ تکلیف طبعیت میں داخل ہو جاتا ہے صحابہ اور اہل بیت بھی آہستہ آہستہ مراتب عرفان کو پہنچے ہیں مگر روز ازل سے انہوں نے وہ خدمات اپنے ذمہ لیں جو بجز کامل ارادت کے ظہور میں نہیں آسکیں اور پھر فایت درجہ کی دشمنی پر اور جو مرد مقبول کی کرامت کا ظہور ہوتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جب دشمن نادان ایک ولی اللہ سے عدادت شروع کرتا ہے اور پر وقت قول یا فعل سے اس کے درپے آزار رہتا ہے تو آخر ایک دن غیرت الٰہی جوش مارتی ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے من عادی اولیالیٰ فقد آز نتہ بالحراب اس لئے یہ اصول نہایت صحیح ہے کہ جس کو کرامات کے دیکھنے کا شوق ہو وہ یا تو غایت درجہ کا دوست ہو جائے یا غایت درجہ کا دشمن کرامات بازیچہ اطفال نہیں ہے تو خواہ مخواہ کھیل کی طرح دکھلائی جائیں۔ اللہ جل شانہ اور اس کے فرمانبردار بندے غیر اللہ سے لا پرواہ