بیشک یہ کام ایسا عمدہ ہو اہے کہ ایک فاسق دنیا دار کے ہاتھ پر انہوں نے بیعت نہیں کی مگر اعتراض تو یہ ہے کہ وہ اپنے باپ بزرگوار کے قدم پر کیوں نہ چلے باب نے تو بقول شیعوں کے تین فاسق آدمیوں کے ہاتھ پر جو بزعم ان کے مرتد سے بھی بدتر تھے اور بقول ان کے صرف معمولی بادشاہوں میں سے تھے بیعت کر لی اور بیٹے نے تو اپنے باپ کے طریق سے اغراض کر کے ایک فاسق کی بھی بیعت نہیں کی اور انکار ہی میں جان دی۔ بہر حال یہ اتفاقی حادثہ تھا جو امام صاحب کو پیش آ گیا اور بڑا بھاری ذخیرہ ان کے درجہ کا صرف یہی ایک حادثہ ہے جس کو مخص غلوا اور نا انصافی کی راہ سے آسمان تک کھنچا جاتا ہے اور وہ بزرگوار صحابہ جو رسولوں کی طرح دنیا میں کام کر گئے اور ہر میدان میں جان فدا کرنے کے لئے حاضر ہوئے ان بقول آپ کے لاپرواہی تو آپ کا طریق ہے۔ یہ فیصلہ توآسانی سے ہو سکتا ہے چونکہ دنیا دار انعمل ہے اور میدان حشر میں مراتب بلحاظ اعمال ملیں گے۔ پس جس کے دل میں امام حسین و حسن کی وہ عظمت ہے کہ اب وہ دوسرے صحابہ سے لاپرواہ ہے اس کو چاہئے کہ ان کی خدمات شائستہ دین کی راہ میں پیش کرے اگر ان کے خدمات کا پلہ بھاری ہے تو بلاشبہ وہ دوسرے صحابہ سے افضل ٹھہریںگے ورنہ ہم اس بات کے توقائل نہیں ہو سکتے کہ خواہ مخواہ کسی کو افضل ٹھہرایا جائے اوریہ خیال کرنا کہ ان کی فضیلت یہی کافی ہے کہ وہ نواسے ہیں یہ خیال کوئی عقلمند نہیں کر سکتا۔ کیونکہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں کہ نواسہ ہونا کچھ بھی چیز نہیں ایک ذرا سا رشتہ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی لڑکیاں تھیں اور نواسے بھی کئی تھے کس کس کی ہم پرستش کریں یہ