لیکن اگر ہاتھ چھوڑ کر بھی نماز پڑھتے ہیں تو نماز ہو جاتی ہے۔ مالکی بھی شیعوں کی طرح ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے ہیں۔ مسنون وہی طریق ہے جو اوپر بیان ہوا اس قدر اختلاف بیعت کا کچھ ہرج نہیں اگر چہ احادیث صحیحہ میں اس کانام و نشان بھی نہیں۔(۵) یہ ہمیشہ سے قاعدہ رہا ہے کہ نشانوں کے چاہنے والے دو ہی قسم کے آدمی ہوتے ہیں یا غایت درجہ سے دوست یا غایت درجہ کے دشمن یعنی جب کوئی انسان مقبول خدا تعالیٰ سے غایت درجہ کی دوستی و محبت اختیار کرے یہاں تک کہ اس کی راہ میں جان قربان ہو جائے اور اس کی خاکپار ہو جائے تو وہ اپنے حوادث اور مصائب کے وقت یا تکمیل مدراج کے لئے رحمت کے آثار دیکھتا ہے اور اس کی برکت اور محبت سے جذبات نفسانی کم ہو جاتے ہیں اور ذوق اور محبت بڑھتی جاتی ہے اور دنیا کی محبت کم اور ٹھنڈی ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے نشانوں کے ذریعہ سے اس پر ظاہر کرتا جاتا ہے کہ یہ شخص محبوبان اور مقبولان الٰہی میں سے ہے اور حادت اللہ قدیم سے ایسی ہی جاری ہے کہ جب اس درجہ پر کسی کی ارادت پہنچ جائے تو اس کا ایمان کامل کرنے کے لئے کسی قسم کے نشان ظاہر ہوتے ہیں اور اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ بیشتر آزمائش صدق کے محققین حقیقت پر نظر ڈالتے ہیں۔ عوام جلدی سے کسی کو کافر اور کسی کو بے دین کہہ دیتے ہیں اور محقیقن اس کی ذرا پرواہ نہیں کرتے اگر ہم صدیقی اور فاروقی خدمات کو جو اپنی زندگی میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں کیں لکھیں تو بلاشبہ وہ ایک دفتر میں بھی ختم نہیں ہو سکتیں۔ لیکن اگر ہم امام حسین رضی اللہ عنہ کی خدمات کو لکھنا چاہیں تو کیا ان دو تین فقروں کے سوا کہ وہ انکار بیعت کی وجہ سے کربلا میں روکے گئے اور شہید ہو گئے۔ کچھ اور بھی لکھ سکتے ہیں؟