کامل کیا ہے نہ اس وجہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے ہیں کیوں کہ نواسے تو او ربھی تھے نواسہ ہونا خدا تعالیٰ کے نزدیک یا خلقت کے نزدیک کیا حقیقت رکھتا ہے۔ لیکن بلاشبہ کمالات صدیقی وفا روقی کے مقابل پر حسینی کمالات متنزل ہیں ان بزرگواروں نے اسلام پر بڑا احسان کیا اور اسلام کی شوکت کو دنیا میں قائم کیا اور وہ جانفشانی کے کام کئے جو نبی اور رسول کرتے ہیں۔ جو شخص ان کے احسانات کا منکر ہوئے وہ خدا تعالیٰ کا کافر نعمت ہے اگر ہم ذبح بھی کئے جاویں تو ہرگز راستی کو نہیں چھوڑ سکتے۔ عوام کا قاعدہ ہے کہ کورانہ تقلید پر چلتے ہیں یہ سراسر غلط ہے۔ تمام صحابہ کرام کے مناقب سے کتابیں بھری پڑی ہیں اور قرآن کریم شاہد ہے۔ صدیق اکبر اور عمر فاروق کے حق میں اس قدر تعریفی کلمات نبوی پائے جاتے ہیں کہ گویا ان دونوں بزرگواروں کو نبی قرار دیا گیا ہے۔ مگر ہماری نظر میں مجرد مناقب کوئی چیز نہیں صرف طرح طرح کے پیرابوں میں سچے مومنوں کی تعریفیں کی ہیں اور اس بات کا فیصلہ کہ ان میں سے زیادہ بزرگ کون ہے ان بزرگوں کی خدمات سے کرنا چاہئے کہ اسی کی طرف اللہ جلشانہ ہدایت فرماتا ہے۔ اب اصل کلام یہ ہے کہ بیعت کے لئے ضروری ہے کہ انسان ہر ایک قولی و فعل و اعتقادی نا انصافی سے بکلی دست بردار ہو جائے کیونکہ راہ راست حاصل کرنے کے لئے ہے۔ اگر بہر حال اسی راہ پر قائم جو تقلیدی طور پر اختیار کیا گیا ہے پھر بیعت سے حاصل ہی کیا ہے
ہر کجا شمع ہدایت یا فتی ہروانہ پاش گر خرد مندی پے راہ ہدا دیوانہ باش
(۴) اگر چہ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنا کسی حدیث سے ثابت نہیں ہوتا اور دست بستہ کھڑا ہونا قانون فطرت کے رو سے بھی بندگی کے لئے مناسب معلوم ہوتا ہے۔