مستمرہ کی رو سے بپائد ثبوت پہنچ گئی ہے کسی اور دوسرے کی فضیلت ہر گز ثابت نہیں ہو سکتی مثلاً امام حسین رضی اللہ عنہ نے جو بھاری نیکی کا کام دنیا میں آکر کیا وہ صرف اس قدر ہے کہ ایک نابکار دنیا دار کے ہاتھ پر انہوں نے بیعت نہ کی اور اسی کشا کش کی وجہ سے شہید ہو گئے۔ مگر یہ ایک شخصی ابتلا ہے جو انہیں پیش آیااگر اس کو اس حضرت صدیق اکبر کی ان …نشانیوں کے ساتھ جانچا جائے جو انہوں نے تمام عمر مخص اعلمائے …اسلام کے لئے اکمل اور اتم طور پر پوری کی تھیں۔ تو کیا شخصی ابتلاء کو کچھ اس سے نسبت ہو سکتی ہے۔ اللہ جل شانہ کا کسی سے رشتہ نہیں ہے۔ جو شخص اعلیٰ درجے کی وفاداری اور خدمت گزاری کرے گا وہی اس کا مقرب ہو گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی بیٹا زندہ نہیں رہا۔ البتہ نواسے زندہ رہے ہیں۔ جیسے حضرت فاطمہ کی اولاد یا دوسری بیٹیوںکی اولاد۔ سو خدا تعالیٰ کے نزدیک ان کے مدراج ان کے اعیال کے موافق ہیں۔ خواہ مخواہ کا درجہ کسی کو دیا نہیں جاتا۔ جو شخص محض خدا تعالیٰ کے لئے کسی سے محبت کرتا ہے اس کو چاہئے کہ خدا تعالیٰ سے خوف کر کے دیکھئے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں اس نے کیا کیا عمدہ کام کیا ہے ناحق فضیلت ان کو نہ دیوے کوئی نہیں سمجھ سکتا کہ محض رشتہ سے کیوں کر فضیلت پید اہو جاتی ہے خاص کر کے ذرا سے رشتہ سے جو نواسہ ہوتا ہے۔ کنعان حضرت نوح کا بیٹا تھا اور آذر حضرت ابراہیم کا باپ پس کیا انہیں یہ رشتہ کا م آیا؟ پس یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اہل بیت ہونا اپنے نفس میں کچھ بھی چیز نہیں ہے۔ بے شک امام حسن و حسین ان لوگوں میں سے ہیں۔ جن لوگوں کو خد اتعالیٰ نے ان کی راستبازی کی وجہ سے